خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 660

خطابات نور — Page 48

قانون قدرت میں اس کے نظائر موجود ہیں خود انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ میں اس کے نمونے نظر آتے ہیں۔قوموں کی عظمت و جبروت پر نظر کرو اور ان اسباب کی تحقیق کرو جو اس کی عظمت کا اصل باعث ہوتے ہیں۔انجام کار تم کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ وہ کسی راستباز کی معیت اور صحبت کا نتیجہ ہیں یہ امر الگ ہے کہ بعد میں اور اسباب بھی اس کے ساتھ مل گئے ہوں۔میں ایک موٹی تمثیل کے ساتھ اس مضمون کو ذہن نشین کرتا ہوں پہاڑوں کی طرف نگاہ کرو۔پہاڑ کا لفظ ہی انسان کے اندر ایک عظمت اور شوکت اس کے نام کی پیدا کرتا ہے۔مگر اصل کیا ہے ذرّات کا مجموعہ ہے۔اب اگر یہ ذرّات پراگندہ اور منتشر حالت میں ہوتے تو کیا ہم ان کا نام پہاڑ رکھ سکتے؟ ہرگز نہیں۔یہی ذرّات منتشر حالت میں بے شمار تعداد میں تھلوں میں موجود ہوتے ہیں کیا کوئی کہتا ہے کہ یہ پہاڑ ہیں؟ کبھی نہیں۔پس اگر یہ ذرات حالت منتشر میں ہوتے تو تھلوں سے زیادہ ان کی شوکت اور وقعت نہ ہوتی اور وہ مفاد اور منافع جو اس ہئیت مجموعی میں جو پہاڑ کی ہے دنیا کو پہنچتے ہیںنہ پہنچ سکتے۔حالت اجتماعی میں پہاڑوں سے چشمے نکلتے ہیں دریا بہتے ہیں ندیوں نالوں کا سلسلہ جاری ہوسکتا ہے۔عجیب عجیب قسم کے میوے قسم قسم کی لکڑیاں اور دوائیوں کے سامان پہاڑوں سے حاصل ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض بعض مقامات پر بڑی بڑی گرانقدر کا نیں بھی نکلتی ہیں۔غرض ہر قسم کی راحت اور آسائش اور تموّل کا سامان ایک طرح پر پہاڑوں سے حاصل ہوتا ہے اور بالمقابل انفرادی حالت تھلوں کی دیکھ لو کہ ریت اڑتی ہے نہ پیداوار ہوسکتی ہے نہ کوئی درخت ہی پیدا ہوتا ہے نہ کچھ اور غرض ہر طرح سے بربادی بخش اور مہیب نظارہ ہے اس زمانہ میں (جو علوم کا زمانہ کہلاتا ہے اور ہر قسم کی ایجادیں اور ترقیاں ہورہی ہیں) ان علوم مروجہ سے معلوم ہوا ہے کہ اجزا کے تفرق سے علیحدگی، کمزوری اور توافق سے تقویت پیدا ہوتی ہے۔یہ تو جمادات کا نظار ہ ہے جو میں نے دکھایا ہے۔اب نباتات کو لو۔اس درخت کو لو جو اس مسجد میں سامنے کھڑا ہے اس کی شاخیں جو اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں یہ کیسی سرسبز اور خوش نما ہیں۔ان کی ہر حالت اور ہر صورت خوبصورت معلوم ہوتی ہے