خطابات نور — Page 47
کیا تم قرآن کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔یہ انکارِ کتاب اللہ نہیں تو کیا ہے؟ جب کہ(التوبۃ :۱۱۹)کی ہدایت کی گئی ہے۔پھر اس حکم کی ضرورت نہ سمجھنا اور عملی طور پر اس کو بیکار ٹھہرانا اس سے بڑھ کر کس قدر ظلم اور حماقت ہوگی؟ جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کے بعض حصص کا انکار کرتے ہیں خواہ علمی طور پر خواہ عملی وہ یاد رکھیں ان کی پاداش اور سزا بہت خطرناک ہے۔(البقرۃ :۸۶) اسی دنیا میں وہ ذلیل ہوجائیں گے اور اب دنیا کی تاریخ کو پڑھ لو اور انبیا ء علیہم السلام کے معاملات پر غور کرو کہ جن لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا وہ اسی دنیا میں ذلیل اور خوار ہوئے ہیں یا نہیں؟ جہاں تک تاریخ پتا دے سکتی ہے یا آثار الصنادید سے پتا مل سکتا ہے وہاں تک صاف نظر آئے گا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد صاف اور ثابت شدہ امر ہے۔میں اس معیت صادق کو حصول نیکی اور حصول تقویٰ کے لئے ایک ضروری چیز سمجھتا ہوں بغیر اس کے حقیقی نیکی کو انسان سمجھ سکتا ہی نہیں اور رضاء الٰہی کے طریق اس کو معلوم ہی نہیں ہوسکتے۔ایک انسان اپنے جیسے انسان کی خواہ اس کی صحبت میں بھی رہے رضامندی کے طریق کو بدون اس کی اطلاع اور تفہیم کے جب معلوم نہیں کرسکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کا علم اس کو کس طرح ہوسکتا ہے۔جب تک خود الہام الٰہی نہ ہو اور ہر شخص چونکہ ایسی استعداد اور قابلیت نہیں رکھتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو بھیجتا ہے۔جو براہ راست مکالمہ الٰہی کا شرف حاصل کرتے ہیں اور پھر وہ نوع انسان کو ان امور سے اطلاع دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہوتے ہیں اور پھر ان آثار اور نتائج کو جو رضاء الٰہی کا ثمرہ کہلاتے ہیں وہ اپنے وجود میں دکھاتے ہیں جس سے واقعی طور پر پتہ لگتا اور یقین بڑھتا ہے کہ ہاں یہی بات ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور یہی حقیقی نیکی ہے اسی لئے میں نے بتایا ہے کہ نیکی کامل نیکی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو۔صادق کی صحبت اور راست باز کے ساتھ ہونے کی ضرورت کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور اس کے بہت سے پہلووں پر بحث کی جاسکتی ہے لیکن میں مختصر طور پر اس کے متعلق کہوں گا۔