خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 499 of 660

خطابات نور — Page 499

اندر ہی ہے۔قانون اور شریعت پھر تجربہ اور عبرت بتاتی ہے ایک کو کسی فعل سے تکلیف ہوئی تو دوسرا سمجھتا ہے کہ ایسا فعل ہم نہ کریں۔انسان کا خاصہ ہے کہ کبھی انعام سے غضب کے نیچے آجاتے ہیں۔پہلے مسلمانوں کو دیکھو کیسے فاتح اور معزز ومکرم تھے لوگ ان پر رشک کرتے تھے ان پر بڑے بڑے انعامات تھے۔جدھر توجہ کرتے تھے ایک مہینے کی دور راہ پر لوگ کانپ اٹھتے تھے۔آج ان کی جو حالت ہو رہی ہے وہ ظاہر ہے ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں۔غرض مغضوب علیھم وہ ہوتے ہیں جن کو علم ہوتا ہے مگر اس علم پر عمل نہیں ہوتا یا بے جا غضب اور عداوت کا شوق ہوتا ہے۔امرتسر میں ایک شخص میرا بڑا ہی معتقد تھا۔دس بجے تک میں باہر رہا اور وہ میرے ساتھ رہا جب ہم واپس لوٹے تو کہنے لگا کہ آپ کا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے ہے‘ آپ سنت کے متبع نہیں۔میں نے کہا کہ ہزاروں صداقتیں میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہیں۔انہوں نے تمہیں کچھ فائدہ نہیں دیا۔بولا میں تو یہی دیکھتا رہا مجھے خبر بھی نہیں آپ نے کیا بیان کیا ؟میں اسی میں لگا رہا کہ آپ بدعت کرتے ہیں کیونکہ پاجامہ گھٹنے سے نیچے پڑا ہوا تھا۔اس قسم کا بغض بے جا ہوتا ہے جو انسان کو مغضوب بنا دیتا ہے یہ بغض بے جا یا تو بدفطرت وبدصحبت کے سبب سے پیدا ہو جاتا ہے یا انسان نکمی کتابیں پڑھتا ہے ان سے متاثر ہو جاتا ہے اور محرکات بد ہوتے ہیں۔میرا پاجامہ اب بھی نیچے گرا ہوا ہے میں تعہد بھی کرتا ہوں شاید تم اس کو سولائیزیشن ( Civilization)کے خلاف کہو کہ میں اب تمہارے سامنے اس کو درست کرتا ہوں (ایڈیٹر۔کیا ہوا صدیقؓ کاتہ بند بھی گرا رہتا تھا۔یہ کچھ ایسی ہی مماثلت معلوم ہوتی ہے) پس بے جا عداوت یا علم ہو اور اس پر عمل نہ ہو یہ مغضوب لوگوں کا خاصہ ہے۔بحث کفر: تم میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو مرزا صاحب کی جماعت میں داخل سمجھتے ہیں اب غور کرو۔مولوی تو ہم پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور عوام بھی ان کی پیروی سیہمیں کافر کہتے ہیں۔ہم ان کا پتھر جب ان کو واپس دیتے ہیں تو پھر بھی ہم پر ہی اعتراض کرتے ہیں کہ تم ہم کو کافر کہتے ہو۔ہم پھر کہتے ہیں کہ جو نعمت تم نے ہمیں دی تھی ہم تو وہی واپس کرتے ہیں مگر ہمیں کافر کہنے کے لئے تو بڑی جرأت کرتے ہیں اور ہمارے اس پتھر کو واپس کرنے پر چلّاتے ہیں۔حالانکہ میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کہ وہ اسماء حسنیٰ کا مسمّٰی اور نقائص سے منزہ ہے وہ واحد حقیقی ہے اور میں اسے ایسا ہی یقین کرتا ہوں۔