خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 1 of 660

خطابات نور — Page 1

مذہب کی غرض و غایت {تقریر فرمودہ ۲۷؍ دسمبر۱۸۹۶ء برموقع جلسہ اعظم مذاہب} خدا تعالیٰ کی مہربانی اور اس کا فضل اور اس کی ربوبیت عامہ اور اس کا وہ فضل جو خاص خاص بندوں پر ہوتا ہے اگر انسان کے شامل حال نہ رہے تو اس کا وجود کب رہ سکتا ہے۔منجملہ اس کی مہربانیوں کے جو ہم پر آج کل عطا فرمائی ہیں۔علم کے حاصل کرنے کے ذریعے اور اس کے مخازن ہیں جو عطا کئے ہیں۔کاغذ کا افراط سے بننا‘ مطبعوں کا جاری ہونا، پوسٹ آفسوں کی وہ ترقی کہ نہایت ہی کم خرچ پر ہم اپنے خیالات کو دور دراز ممالک میں پہنچا سکتے ہیں۔پھر تار کا عمدہ انتظام، ریل اورجہاز کے ذریعہ سفر میں آسانی یہ تمام انعام الٰہی ہیں۔اگر انسان اس کا شکر ادا نہیں کرتا تو وہ ضرور عذاب میں گرفتار ہوگا لیکن جو شکر کرتا ہے خدا اس میں بڑھوتی کرتا ہے۔میں نے اپنے ابتدائی زمانہ میں دیکھا ہے جو کتابیں ہمیں مشکل سے ملتی تھیں بلکہ جن کے دکھانے میں تا ّمل اور مضائقہ ہوتا تھا۔تھوڑے زمانہ سے دیکھتے ہیں کہ قسطنطنیہ کی عمدہ عمدہ کتابیں اور ایسا ہی الجزائر، مراکش، تیونس، طرابلس اور مصر سے آسانی کے ساتھ گھر بیٹھے پہنچتی ہیں۔ہر ایک شخص کو واجب ہے کہ اس امن کے زمانہ میں اس نعمت الٰہی سے بڑا فائدہ حاصل کرے۔مذہب میرے نزدیک ایسی چیز ہے کہ کوئی آدمی دنیا میں بغیر قانون کے زندگی بسر نہیں کرسکتا۔گورنمنٹ کے قانون کی منشا حقوق کی حفاظت ہے لیکن ان قانونوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے جو جو حدود باندھے گئے ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ ان سے ممکن ہے جرائم کا انسداد ہو لیکن محرکات جرائم کو روکنا ان کے احاطہ سے باہر ہے مثلاً یہ تو ممکن ہے کہ اگر کوئی شخص زنا بالجبر کا مرتکب ہو تو گورنمنٹ اسے سزا دے لیکن بدنظری سے بدصحبتوں سے بد خواہشوں سے جو انسان میں پیدا ہوکر اس سے طرح طرح کے جرائم کراتی ہیں۔اس کا انسدا د