خطابات نور — Page 467
اول ایمان باللہ! اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماء حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمیٰ اور تمام بدیوں سے منزہ یقین کرنا‘ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور وجود اور ہستی سے امید وبیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا شریک اور ندّنہ ماننا وہ اپنی ذات میں یکتا اپنی صفات میں بے ہمتا۔اپنے اسماء اور افعال میں (الشوریٰ :۱۲) ہے اٹھتے بیٹھتے اسی کا نام لینا اسی کو نافع اور ضارّ یقین کرنا اور کسی سے اللہ کے سوا تعلق نہ ہو۔پھر ملائکہ پر ایمان لانا ضروری ہے جو تمام نیک تحریکوں کے محرک ہیں اور ان پر ایمان لانے کی یہی غرض ہے کہ انسان ان پاک تحریکوں پر عمل کرے۔پھر اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے پھر اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً دنیا کی اصلاح اور بھلائی کے لئے اپنے پاک نبیوں کو بھیجا۔اور ہم ان تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے یا جن کا ذکر نہیں ہوااور ان انبیاء کی نبوت اور بعثت میں ہم کوئی فرق نہیں کرتے۔اس پاک گروہ نے خدا تعالیٰ کا کلام مخلوق کو پہنچایا پھر جزا وسزا پر ایمان لانا یعنی مسئلہ تقدیر کو ماننا کہ وہ حق ہے جزا وسزا حق ہے۔حشر نشر، پل صراط، جنت ونارسب حق ہیں یہ تو عقائد صحیحہ ہیں۔اس کے بعد ایمان صالحہ ہیں کیونکہ زندہ اور مثمر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ اعمال صالحہ ہوں۔ان میں نماز ہے‘ زکوٰۃ ہے‘ حج اور روزہ ہے۔اخلاق فاضلہ کو حاصل کرنا اور رذائل سے بچنا ہے قرابت داروں، یتامیٰ، مساکین سے اپنے مال سے سلوک کرنا‘ مسافر نوازی کرنا۔بعض اوقات مسافروں کے ریل پر پیسہ نہیں رہتے ایسے لوگوں سے سلوک کرنا ضروری ہے۔نمازوں کو قائم رکھنا۔عسریسر مقدمہ ہو یا صلح، راحت ہو یا رنج، افلاس اور غریبی ہو یا امیری۔ان تمام مرحلوں میں اللہ کو ناراض نہ کرنا یہ تمام امور مختصراً تقویٰ کے اصول ہیں۔جو شخص ان پر کاربند ہو گا وہ متقی ہو گا۔تقویٰ کے نتائج بہت ہیں مگر ایک ان میں سے یہ ہے کہ متقی کی موت مسلمان کی موت ہو گی۔اعتصام بحبل اللّٰہ: اس اصل کو قائم رکھنے کے لئے ایک اور قاعدہ اللہ تعالیٰنے بتایا ہے اور وہ یہ ہے ٓ(آلِ عمران :۱۰۴) سب کے سب حبل اللّٰہ کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔مدرسوں میں