خطابات نور — Page 466
نصیب نہ ہو گی۔میں نے اس کو کہہ دیا کہ زبان تو چل نہیں سکے گی۔۔البتہ اگر تم میری بات مانو تو تمہیں ایک نکتہ بتاتا ہوں۔تمہارا پانچ سو روپیہ بچ جاوے گا غرض میں اس کے ساتھ گیا اور دیکھا کہ زبان پر بھی فالج تھا میں نے اس کو کہا کہ اس کو آواز دو۔اب کانوں میں کچھ نہیں سامنے ہو کر دیکھ لو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں۔میں یہ تماشا قدرت کا دیکھ رہا ہوں تم اب کسی اور کو بلا کر علاج کرائو۔میں علاج نہیں کر سکتا۔اس وقت میں نے ان کو کہا کہ تمہارے گھر میں فلاں عورت ہے اس کو بلائو۔وہ نہایت خوبصورت اور نوجوان تھی جب وہ آئی تو میں نے اس کو مرنے والی کی حالت دکھا کر کہا۔اس کو دیکھ لو اگر توبہ کر لو تو بہتر ہے ورنہ میں اور فتویٰ دیتا ہوں۔یہ لوگ ایسی باتوں کے بہت معتقد ہوتے ہیں وہ ڈر گئی اور اس نے کہا کہ توبہ کرتی ہوں۔تب میں نے اس لڑکے کو کہا کہ اگر تم وہ پانچ سو جو روٹی پر صرف ہوتا ہے خرچ نہ کرو تو کنجر ہی برا کہیں گے کوئی شریف برا نہ کہے گا اور مادہ فاسد اب توبہ کرتی ہے تم کھانا موقوف کر دو۔اب خواہ ان کنجروں کی تعریف حاصل کرلو خواہ شرفاء کی۔خدا نے اس کو سمجھ دے دی اور اس نے مان لیا اور کہا کہ پانچ سو بچ گیا دوسرے بھائی کو کہا اس نے بھی مان لیا۔مسلمان مرو: میری غرض تمہیں داستان سنانا نہیں اس واقعہ سے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ کہتے ہیں مرتے وقت توبہ کر لیں گے وہ جھوٹے ہیں اس وقت کس کو ہوش رہتی ہے۔اس وقت کوئی فہم نہیں ہوتا۔ہاں خدا تعالیٰ کے بعض بندے ہوتے ہیں جن کو دیکھا ہے کہ مرتے ہوئے بھی کچھ کہتے جاتے ہیں‘ ان میں ہندوئوں کو بھی دیکھا ہے۔جب یہ حالت ہے کہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں کہ مرتا ہوا مسلمان مرے تو اس کی آج فکر کرو۔مسلمانی کی موت تب ہی ہو سکتی ہے۔ابھی سے تیاری ہو پھر جس وقت چاہے موت آجاوے۔اس کا گُر اس آیت میں بتایا ہے کہ متقی بن جائو۔مسلمان مرنے کا طریق تقویٰ ہے۔پس میں بھی چاہتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کرو اور ایسا تقویٰ جو تقویٰ اللہ کا حق ہے۔عقائد اسلامی: تقویٰ کیا ہے؟ عقائد صحیحہ ہوں اور ان کے موافق اعمال صالحہ ہوں اور اخلاق فاضلہ ہوں۔عقائد صحیحہ کیا ہیں؟ ہمارے عقائد بہت آسان ہیں۔