خطابات نور — Page 424
مجھے اب بھی زخم ہے مگر دماغ پر اس کے سبب سے صدمہ نہیں۔اس لئے میں اصل مطلب کی طرف آکر کہتا ہوں کہ میں تفسیروں اور کتابوں سے تعاون علی البرکیا کرتا ہوں دوسری بات یہ تھی کہ ہر چہ گیرد علتی علت شود کے موافق الفاظ کے معانی بگڑ گئے ہیں۔اس میں سے کلمہ کے معنی سنائے جو درسی کتابوں کے نصاب میں بھی بگڑ گئے اور گورنمنٹ نے بھی غلطی رہنے دی۔اسی طرح پر ایک لفظ الہام کا ہے۔محجوب لوگوں نے سمجھ رکھا کہ جو دل میں آجاوے وہ الہام ہے ان معنوں کو اتنا وسیع کیا کہ برہم ازم کے ماننے والوں نے تمام انبیاء علیہم السلام کو نعوذ باللہ جھوٹا کہہ دیا کیونکہ وہ الہام کی حقیقت ہی نہیں سمجھے اور اس کے مفہوم کو ایسا بگاڑا کہ نبی انہیں جھوٹے معلوم ہوئے اور کہہ دیا کہ نعوذ باللہ انبیاء علیہم السلام نے صرف لوگوں کو ڈرانے کے لئے الہام کی عظمت بیان کی والّایہ بہت معمولی بات ہے جو دل میں آجاتی ہے وہی الہام ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بڑے آدمی کی میں نے کتاب پڑھی وہ بات بات پر کہتا ہے ھذا ما الہمنی ربی۔اور پھر لکھ دیا کہ ز جبرائیل امین قرآن بہ پیغامے نمے خواہم یہ برہموئوں کا مذہب ہے۔پرسوں ایک شخص نے ایک ترجمہ دیا لکھا تھا نعوذ باللہ الہامی ترجمہ ہے۔ایک ہزار نسخہ چھا پا ہے خریداجاوے۔میں نے محض اس خیال پر کہ ایک دوست لایا ہے (میرے خیال میں وہ درست ہے )اس کو پڑھ لیا۔میں اپنے کسی دوست کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کو پڑھے۔میرا پڑھنا تعاون علی البر کے طور پر ہے اس میں (البقرۃ:۱۰۳)میں ملکین کے معنے شیطان کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ جیسے ہماری زبان میں لُچّے کو حضرت کہتے ہیں یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور خطرناک غلط ہیں اگر ملک کا یہی ترجمہ ہے تو اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْمَـلَا ئِکَۃ کے کیا معنی ہوں گے ہمارا وہ دوست اس مجلس میں ہے تو اس پر غور کرے کہ اس الہامی ترجمہ والے نے خدا سے ذرا بھی خوف نہ کر کے ہاروت وماروت کو شیاطین کہا ہے اور پھر اس کا نام الہام رکھا ہے۔میں نے جب اس ترجمہ میں یہ پڑھا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔پیچھے میں نے سمجھا کہ اس کے متعلق تبلیغ کردوں اس لئے میں کھول کر کہتا ہوں کہ اس ترجمہ کو ہر گز ہرگز نہ پڑھو ملککا ترجمہ فرشتہ ہے اور حضرت کا ترجمہ بے ایمان کرنا یہ بھی جہالت کی بات ہے۔۔پس تم