خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 423 of 660

خطابات نور — Page 423

قرآن میں ناسخ منسوخ نہیں۔میں نے کہا ہاں نہیں ہے۔تب بڑے جوش سے کہا کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے وہ احمق بھی قائل نہ تھا میں نے کہا پھر تو ہم دو ہوگئے۔پھر اس نے کہا کہ سید احمد کو جانتے ہو۔مراد آباد میں صدرالصدور ہے۔میں نے جواب دیا کہ میں رام پو ر‘ لکھنو اور بھوپال کے عالموں کو جانتا ہوں ان کو نہیں جانتا۔اس پر کہا کہ وہ بھی قائل نہیں۔تب میں نے کہا بہت اچھا پھر ہم اب تین ہو گئے۔کہنے لگا یہ سب بدعتی ہیں۔امام شوکانی نے لکھاہے کہ جو نسخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے۔میں نے کہا تم دو ہو گئے۔میں ناسخ و منسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتاتا ہوں تم کوئی آیت پڑھ دو جو منسوخ ہو اس کے سا تھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ان پانچ آیتوں میں سے کوئی پڑھ دے تو کیا جواب دوں۔خدائے تعالیٰ ہی سمجھائے تو بات بنے۔اس نے ایک آیت پڑھ دی میں نے کہا کہ فلاں کتاب نے جس کے تم بھی قائل ہو اس کا جواب دیے دیا ہے۔کہنے لگا ہاں پھر میں نے کہا اور پڑھو تو خاموش ہی ہو گیا۔علماء کو یہ وہم رہتا ہے ایسا نہ ہو ہتک ہو۔اس لئے اس نے یہی غنیمت سمجھا کہ چپ رہے۔بھیرہ میں ایک شخص نے نسخ کا مسئلہ پوچھا اور میں نے اپنے فہم کے مناسب جواب دیا اور کہا کہ پانچ کے متعلق میری تحقیق نہیں تو اس دوست نے کہاکہ اب ان پانچ پر نظر ڈال لیں۔میں نے تفسیر کبیر رازی میں بہ تفصیل ان مقامات کو دیکھا تو تین مقام مجھے خوب سمجھ میں آگئے اور دو سمجھ میں نہ آئیں۔تفسیر کبیر میں اتنا تو لکھا ہے کہ شدت اور خفت کا فرق ہو گیا ہے۔غرض میں ان کتابوں کو پڑھتا ہوں مگر تعاون علی البر کے لئے نہ اس محبت اور جوش سے جو مجھے پیارے کی پیاری کتاب سے ہے۔پھر میں ایک مرتبہ ریل میں بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔جیسے بجلی کو ند جاتی ہے۔میں نے پڑھا کہ فلاں آیت منسوخ نہیں ہے۔میں بڑا خوش ہوا کہ اب تو چار مل گئیں صرف ایک ہی رہ گئی۔بڑی بڑی کتابوں کا تو کیا ذکر میں ُچھٹ بھیوّں کی بھی پڑھ لیتا ہوں۔مگر اسی غرض تعاون علی البرکے لئے۔اس طرح پر ایک میں وہ پانچویں بھی مل گئی اور اس طرح پر خدا کے فضل سے مسئلہ ناسخ ومنسوخ حل ہو گیا۔میرے دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ترتیب کو محفوظ رکھنے والا بنایا ہے اگر چہ