خطابات نور — Page 422
ناسخ منسوخ کا مسئلہ کیسے حل ہوا کے اس عشق ومحبت کی وجہ جو آپ کو قرآن کریم سے ہے آپ کو اجازت ہے۔میںنے کہا کہ مسئلہ ناسخ و منسوخ کے متعلق کوئی کتاب دو۔انھوں نے مجھے ایک کتاب دی جس میں ۶۰۰ آیت منسوخ لکھی تھی مجھے یہ بات پسند نہ آئی۔ساری کتاب کوپڑھا اور مزہ نہ آیا۔میں ا س کتاب کو واپس لے گیا اور کہا کہ میں جوان آدمی ہوں اور خدا کے فضل سے یہ ۶۰۰آیت یاد کر سکتا ہوں۔مگر مجھے یہ کتا ب پسند نہیں۔وہ بڑا بڈھا اور ماہر تھا اس نے ایک اور کتاب دی۔اس کا نام اتقان ہے اور ایک مقام اس میں بتا دیا جہاں ناسخ ومنسوخ کی بحث ہے۔خوشی ایسی چیز ہے کہ میں نے ابھی پچاس والی کو پڑھا بھی نہیں۔مگر اسے لایا او ر اس کو پڑھنا شروع کیا۔اس میں لکھا تھا کہ ۱۹ آیتیں منسوخ ہیں۔میں اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ گویا بادشاہ ہوگیا۔میں نے کہا کہ ۱۹ یا ۲۱آیتیں تو فوراًیاد کر لوں گا۔مجھے بڑی خوشی ہوئی مگر مجھے ایسا قلب اور علم دیاگیا تھا کہ اس پر بھی وہ کتاب مجھے پسند نہ آوے۔آخر میں نے کہا کہ یہ بھی پوری خوشی کا موجب نہیں پھر مجھے خیال آیا کہ پچاس روپے والی کتاب بھی تو پڑھ دیکھیں اس کو پڑھا تو انہوں نے لکھا کہ خدا تعالیٰ نے جو علم مجھے دیا ہے اس میں ۵ آیتیں منسوخ ہیں۔یہ پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب کیا مشکل ہے۔میں نے جب ان پانچ پر غور کی تو خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھ دی کہ ناسخ ومنسوخ کا جھگڑا ہی غلط ہے کوئی پانچ سو چھ سو بتا تا تھا کوئی انیس ‘ اکیس ‘ کوئی پانچ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو صرف فہم کی بات ہے۔اور میں نے یہ قطعی فیصلہ خدا کے فضل سے کر لیا کہ ناسخ ومنسوخ کا علم صرف بندوں کے فہم پر ہے۔ان پانچ نے سب پر پانی پھیر دیا۔یہ فہم جب مجھے دیا گیا تو ا س کے بعد ایک زمانہ میں لاہور کے اسٹیشن پر شام کو اترا۔بعض اسباب ایسے تھے کہ چینیا ں والی مسجد میں گیا۔شام کی نماز کے لئے وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمدحسین بٹالوی کے بھائی میاں علی محمد نے مجھ سے کہا کہ جب عمل قرآن مجید و حدیث ہوتا ہے تو نا سخ ومنسوخ کیا بات ہے۔میں نے کہا کچھ نہیں۔اگر چہ وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے (عالم مراد ہے۔ایڈیٹر) گو میر ناصر کے استاد تھے۔انھوں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا ہوگا۔یہ ان دنوں جوان تھے اور بڑا جوش تھا۔میں نماز میں تھا اور وہ جوش سے ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہو ا تو کہا ادھر آئو۔تم نے میرے بھائی کو کہہ دیا کہ