خطابات نور — Page 406
تب میں نے اس کو کہا کہ کیا تو <mark>جا</mark>نتی ہے کہ اس جہاں کا پیدا <mark>کر</mark>نے والا بھی کوئی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ پڑھے لکھے لوگ ہی <mark>جا</mark>نتے ہوں گے۔اس پر میں نے اس کو کہا کہ تم جو مرزا صاحب کے پاس آئی اور سو روپیہ نذر دیا، کیا سمجھ <mark>کر</mark> آئی ہو؟ اس نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی ہیں۔اس سے تم اندازہ <mark>کر</mark> لو کہ بعض لوگ کیسے نافہم ہوتے ہیں۔ہر قوم میں ایسے لوگ ہوتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے‘ ان کو <mark>علم</mark> ہوتا ہے فہم ہوتا ہے، وہ اللہ ربّ العالمین کو <mark>جا</mark>نتے ہیں۔محمد رسول اللہ خاتم النبیین کو سمجھتے ہیں (صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم) اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اس کے پیاروں کو پہچانتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے اور خاص احسان ہوتا ہے۔جن پر اللہ کا احسان ہے ان کے لئے قرآن شریف میں فرمایا:۔ (القصص :۷۸) یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تم بھی احسان <mark>کر</mark>و۔تم پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے تم کو <mark>جا</mark>ہلوں سے نہیں بنایا اور نافہم نہیں بنایا۔نافہمی کا وہ نمونہ یاد رکھو کہ وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کے نام تک سے ناواقف اور اخلاص ایسا کہ سو روپیہ دے دیا۔پس تم خدا کا ش<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>و کہ اس نے تم پر احسان کیا اس کا ش<mark>کر</mark> یہ ہے کہ جو تم نے پاک تعلیم سنی ہے اسے مخلوق کو پہنچائو۔میں یہ بھی <mark>جا</mark>نتا ہوں کہ یہ کام بہت ہی بڑا ہے۔میرے کسی وہم یاگوشہ خیال یا تخیلات شاعرانہ میں بھی نہیں آیا تھا کہ میں کسی جماعت کا امام بنوں۔یہ بات میرے وہم وگمان سے وراء الوراء تھی بلکہ میرے شاگرد <mark>جا</mark>نتے ہیں جنہوں نے مجھ سے کچھ پڑھا ہے۔ایک حدیث ہے اس کا مطلب اور ہی سمجھتا تھا اب تو اور سمجھتا ہوں۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریشیوں کی سلطنت میں زوال نہ ہو گا جب تک دو بھی ہوں۔میں قریشی تھا اور مرزا کا سچے دل سے مرید ہوا۔ہمارے جد بزرگوار میں فرخ شاہ ایک بزرگ کابل میں گزرا ہے۔درہ فرخ شاہ اب تک بھی اس کے نام سے ہے۔اس نے سلطنت <mark>جا</mark>ن بوجھ <mark>کر</mark> چھوڑی اور تخت سے اُتر <mark>کر</mark>چبوترہ پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔اب بھی میری قوم کے آدمی یا غستان میں شاہزادے کہلاتے ہیں۔تو میرے تو وہم میں بھی نہ تھا کہ میں کسی جماعت کا امام ہوں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ایک آن کی آن میں مجھے امام بنا دیا اور ایک قوم کا امیر بنا دیا۔تم سی<mark>کر</mark>ٹری لوگ ہو‘ پریذیڈنٹ بھی ہیں تمہیں کبھی کبھی مشکلات پیش آ<mark>جا</mark>تے ہوں گے اور پھر اس سے عناد بڑھ