خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 660

خطابات نور — Page 396

ہلاکت نہیں ہوئی۔میں نے اس لفظ کو الٹ پلٹ کے بڑا دیکھا ہے اس کے سارے لفظوں میں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔سلم کو الٹادیں۔ملس بن جاتاہے۔ملس نرم چیزکوکہتے ہیں۔مسلماناور (الفتح :۳۰) یعنی آپس میں رحیم کریم ہوتے ہیں۔اسی لفظ کو اور الٹا دیں تو لسم بن جاتا ہے۔لسم کے معنے یہ ہیں کہ انسان حیاء کے سبب بعض وقت خاموشی اختیار کرے۔مسل بھی اس کا الٹ لفظ بنتا ہے۔اس کے معنے ہیں پانی دوسری جگہ پہنچا دینا۔مسلمان کا یہ بھی کام ہے کہ دوسرے کو نفع پہنچائے۔لمس بھی اس کا مشتق ہے اس کے معنے ہر وقت طلب میں لگے رہنا۔پس مسلمان کا یہ بھی کام ہے کہ ہر وقت رضائے الٰہی کی طلب میں لگا رہے مگر جس طرح اسلام دنیا میں صلح، آشتی، نیک نمونہ قائم کرنا چاہتا ہے۔اسی قدر اگر کوئی موذی اسلام کے لئے پیدا ہو تو اس موذی کا عمدگی سے مقابلہ کرتا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے۔(النحل :۱۲۶) مقابلہ کرو پر ایسی ترکیب سے کرو کہ جس میں خوبیاں ہی بھری ہوئی ہوں۔مناظرہ کس طرح سے ہو: پس ہمارے مناظرے غیر قوموں سے اگر ہوں تو اسی طرح سے وہ مناظرے ہونے چاہئیں جس میں خوبیاں ہوں‘ دشمن کی غلطی پر اسے آگاہ کیا جاوے اور اس کے مقابلہ میں اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جاویں اور ایک جگہ فرمایا۔(حٰمٓ السّجدۃ :۳۵)۔مدافعت بھی کرو تو اس طریق سے کہ وہ بہت ہی عمدہ ہو۔ادفع السیۃ بالحسنۃ۔ہر بدی کو کسی خوبی سے ہٹا دو۔جب مخالفوں کے ساتھ بھی ہمیں مدافعت میں خوبیاں مدنظر رکھنی چاہئیں تو دو مسلمانوں کے درمیان تباغض، عداوت اور باہم جنگ کیونکر ہوسکتی ہے۔المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔مسلمان تو اس وقت مسلمان ہوتا ہے کہ جو صلح کار لوگ ہیں اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔میں جانتا ہوں کہ چند آدمیوں کے درمیان محبت کا قیام، اخوت کا استحکام محض فضل الٰہی سے ہوسکتا ہے۔قرآن کریم میںایک جگہ اللہ تعالیٰ