خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 395 of 660

خطابات نور — Page 395

باپ نے اسے یہاں جھڑکی دی تھی۔آج اسلام نے اسے اس بلندی پر پہنچا دیا کہ لاکھوں آدمی ایک اشارہ پر خون بہانے کو تیار ہیں۔اسی لفظ سے سلامتی نکلی ہے جس سے حفاظت کے معنے پیدا ہوئے ہیں۔عجیب قسم کی حفاظت مومن کو عطا ہوتی ہے۔میں نے پنتالیس برس سے بہت زیادہ طب کی ہے۔میں نے کبھی کوئی اسلام میں فرمان بردار ہوکر آتشک میں، سوزاک میں مبتلا نہیں پایا۔بہت سے حکام کے ساتھ تعلقات رکھے ہیں۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اسلام کے سبب کسی کو بید لگے ہوں۔کوئی تکلیف کسی کو اسلام کے باعث نہیں پہنچتی بلکہ اگر خدا تعالیٰ کو مومن کی خاطر جہاں غرق کردینا پڑے تو اسے پروا نہیں۔کیا حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں پروا کی ہے۔یہ بات نہایت سچ ہے۔ہلاکت سے بچنے کی راہ: (البقرۃ :۳) کے یہ بھی معنے ہیں کہ یہ وہ کتاب ہے اور جس میں کوئی ہلاکت نہیں۔ریب ہلاکت کو بھی کہتے ہیں جیسے قرآن شریف میں فرمایا۔(الطّور :۳۱)۔ کے یہ معنی ہوئے کہ قرآن کی تعلیم میں کوئی ہلاکت نہیں ہوتی۔ابھی کل کی بات ہے یا رات کی ایک نکتہ معرفت میرے کان میں پہنچا۔میری بیوی نے کہا آپ جانتے ہیں کہ آپ کو تکلیف کیوں پہنچی۔میں نے کہا اللہ کے مخفی در مخفی راز ہیں۔بیماری کا ایک راز: کہا۔ایک وجہ میرے خیال میں بھی آئی ہے۔کہو تو سنائوں۔میں نے کہاہاں۔کہنے لگی۔تمہاری عادت تھی کہ جمعہ کے بعد دعائوں میں لگے رہتے، تم وہ دعا کا وقت چھوڑ کر ایک امیر کو ملنے چلے گئے۔مجھے یہ نکتہ بہت پیارا لگا۔غرض اسلام سلامتی چاہتا ہے۔اسلام کے بھیجنے والا کا نام (الحشر :۲۴)ہے۔السلام نام ہے اللہ تعالیٰ کا۔اسلام کا نتیجہ بہشت ہے۔بہشت کا نام بھی دارالسلام ہے۔(الانعام :۱۲۸) اور فرمایا: (فاطر :۳۶)۔گویا اسلام سُکھوں کا موجب ہے اور بہت بڑے سُکھوں کا موجب ہے۔اسلام میں کبھی کوئی