خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 394 of 660

خطابات نور — Page 394

جو خدا کی طرف سے آئے ہیں اسی کلمہ کے لئے انہوں نے وہ وہ تکالیف اٹھائی ہیں جن کے بیان کرنے کے واسطے بہت ہی وقت چاہئے۔اس کلمہ کے تین عظیم الشان فائدے ہیں۔جب انسان منہ سے بولتا ہے تو مسلمان کہلاتا ہے۔وہ معاملا ت جو ہم مسلمانوںسے کرسکتے ہیں اس شخص سے کرتے ہیں جس کی زبان سے لا الٰہ الا اللّٰہ سنتے ہیں۔اسلام ایک عجیب نعمت ہے۔اسلام کے معنے اصل میں صلح کے ہیں اور آشتی کے اور نیک نمونے کے سَلم اور سِلم دونوں لفظ صلح کو چاہتے ہیں۔منجملہ ان باتوں کے جن سے اسلام نے صلح کو قائم کیا ہے۔ایک یہ ہے کہ :۔(الانعام :۱۰۹)۔تمام وہ قومیں جو اللہ کے سوا کسی کو پکارتی ہیں۔ان کے کسی معبود کو کسی بزرگ کو گو وہ اللہ کے سوا ہی ہو اور اس کی وہ پرستش کرتے ہوں۔ان کو بالکل گالی مت دو۔۔کیونکہ وہ نادان بھی اللہ کو گالی دیں گے ناسمجھی سے۔یہ لا تسبّوا کی دلیل بتلاتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بڑی صلح اور بہت بڑی آشتی کو چاہتا ہے۔اس کے معنے فرمانبرداری کے بھی ہیں اور ہر ایک کی فرمانبرداری نہیں بلکہ اللہ کی فرماں برداری اور اس کے رسولوں کی فرمانبرداری، اولوالامر کی فرمانبرداری اس کا نام اسلام رکھا ہے۔اسلام کے معنے فرمانبرداری مگر الاسلام کے معنے خاص فرمانبرداری۔اسلام کے لفظ سے ایک سُلَّمْ لفظ بھی نکلا ہے۔سُلَّمْ۔اس سیڑھی کو کہتے ہیں جس سے انسان بلندی کی طرف چڑھتا ہے۔ایسے ہی ہماری ترقیات کے لئے اور بلند مراتب پر پہنچانے کے واسطے خدا نے اسلام کو بھیجا ہے۔اس کے نمونے دیکھ لو۔راز خلافت: جناب ابوبکرؓ اور ان کے والد مکّہ کے صنادید اور عمائد سے نہ تھے مگر اسلام ہی تھا کہ اس فرمانبرداری نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جانشین بنادیا۔جناب عمر ایک دفعہ حج سے واپس آتے ہوئے ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوگئے۔کئی آدمی ساتھ تھے۔رعب کے سبب کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وجہ دریافت کرے مگر حذیفہ کو جناب سے بہت بے تکلّفی تھی۔اس نے پوچھا تو فرمایا خطاب کا بیٹا یہاں اونٹ چراتا تھا۔ایک دفعہ اس کے