خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 660

خطابات نور — Page 391

نہیں اور عبادت کے واسطے بلانے کے لئے کسی قوم نے اس سے بہتر کوئی تجویز نہیں کی۔یورپ امریکہ نے اس پر ترقی نہیں دکھائی ایک دفعہ ایک انگریز پادری صاحب کے ساتھ مجھے گفتگو کا موقع ہوا۔اثنائے گفتگو میں ممالک یورپ و امریکہ کی ترقی کا ذکر ہوا۔پادری صاحب فرمانے لگے کہ دیکھو عیسائی اقوام نے کتنی بڑی ترقی کی ہے۔میں نے کہا میں تو ان کی کوئی ترقی نہیں دیکھتا اگرچہ موچیوں کے کام میں انہوں نے بہت ترقی کی ہے اور بہت عمدہ خوبصورت جوتے بنانا جانتے ہیں یا اگر جلاہے کے کام میں انہوں نے بہت ترقی کر لی اور بہت سا کپڑا بنانا جانتے ہیں یا چکی پیسنے کے کام میں بہت ہوشیار ہو گئے ہیں تو ان سب باتوںکا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے روپیہ کمانے کے کام میں بہت ترقی کر لی ہے اور وہ بڑے دولت مند ہو گئے ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ اس ترقی پر انجیل کا کیا فتویٰ ہے متی باب ۱۹آیت ۲۳میں لکھا ہے۔’’تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کاسوئی کے ناکے سے گزرجانا اس سے آسان ہے کہ ایک دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔‘‘ اس سے ثابت ہواکہ یہ لوگ دولت مندلوگ جن کاآپ ذکر کرتے ہیں عیسائی دنیا کے واسطے قابل فخر نہیں ہو سکتے۔پھر انجیل میں تو لکھا ہے کہ تُوکل کی فکر آج نہ کر۔کیا آج کل کے پولیٹیکل لوگ جو سو سو سال کے بجٹ بناتے ہیں اس آیت پر عملدر آمد کرنے والے ہیں؟ کیا ان کی پولیٹیکل ترقیاں انجیل کی تعلیم کو سچا ثابت کر سکتی ہیں؟ یہاں تو گفتگو مذہب کے متعلق ہے دنیا داری کے متعلق نہیں۔مذہبی امور میں آپ یورپ امریکہ کی کوئی ترقی دکھلائیں۔مذہبی امور میں سے ایک امر یہ ہے کہ نماز کے واسطے لوگوں کو کس طرح سے بلایا جاوے۔اس میں آپ نے سوائے گھنٹہ بجانے کے کیا تجویز اختیار کی ہے۔اللہ اکبر اذان سے بڑھ کر کوئی بات بتائو۔اس سے بہتر کوئی لفظ نکالو۔پادری صاحب ذہین آدمی تھے بہت توجہ کی اور دیر تک سوچتے رہے۔آخر فرمایا کہ بے شک اللہ اکبر سے بہتر کوئی لفظ نہیں ہے۔ہاں مدت کے بعد ایک مسیحی وکیل کے رسالہ میں پڑھا کہ اذان کی بھدی اور بے سری آواز کو گھنٹہ کی سریلی آواز سے کیا نسبت۔واہ واہ۔