خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 379 of 660

خطابات نور — Page 379

مدنظر تھا اور یہی میری دعا تھی اور قرآن مجید کی یہ آیتیں میرے سامنے تھیں۔(التوبۃ:۱۰۷تا۱۰۹)۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عیسائی ابو عامر تھا اس نے ایک مسجد بنائی تھی۔عیسائی قومیں بڑی ہوشیار ہوتی ہیں۔اس نے دل میں دیکھ لیا کہ ایک مسجد بنائو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ بعض اوقات ندی نالے چڑھ جاتے ہیں اور غرباء و ضعفاء آپ کی مسجد میں نہیں آسکتے اس لئے ان کے لئے ایک مسجد بناتے ہیں۔حضور بطور تبرک ایک وقت کی نماز اس میں پڑھ لیں۔جب آپ نماز پڑھ لیں گے تو یہ مسجد متبرک ہوجائے گی اور مسلمانوں کی نگاہ میں معزز ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ بھی کرلیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے ذریعہ آگاہ کردیا کہ ان کی غرض و غایت کیا ہے اور آپ پر وحی ہوئی  یعنی اس مسجد کے بنانے والوں کا منشاء دکھ دینے اور کفر کا ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا مقصود ہے اور یہ غرض ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جن لوگوں نے جنگ کی ہے ان کے لئے کمین گاہ بنادیں اور یہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہمارا مقصود نیکی ہے اور ہم حسنیٰ چاہتے ہیں مگر یاد رکھو۔میں نے بھی اس مسجد کی اینٹ رکھی ہے اور میرے وہی پیارے نے بھی رکھی ہے۔میرے دل میں تقویٰ تھا۔میں نے ضرر کے لئے نہیں رکھی اور کسی شریر کے آئندہ جانشین ہونے کے لئے نہیں رکھی یہ پتا پیچھے ملے گا۔میری غرض تقویٰ ہے۔اگراس غرض کے لئے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ً اس مسجد ضرار میںکبھی کبھی بھی کھڑا نہ ہو