خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 660

خطابات نور — Page 372

ایسے لوگ نہیں ہوتے اور یہ ان کی تعلیم کی کمزوری اور ان کے ہادیوں کی قوت قدسی کا ضعف ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی ایسی زبردست اور آپ کی تعلیم ایسی بابرکت ہے کہ تیرہ سو برس تک برابر ایسے لوگ ہوتے آئے اور ہوتے جائیں گے جو احیاء ملت کرتے رہیں گے اور ان کے ہاتھ پر بہتوں کو شفا ہوگی اور وہ دنیا کی ہدایت کا ذریعہ ہوں گے۔یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔ایک شخص نے مجھ سے انجیل کی رو سے ختم نبوت کی دلیل پوچھی۔میں نے کہا وہاں تو بالکل صاف ہے۔متی کی انجیل میں باغ کی مثال بیان کی ہے۔باغ کے مالک کا آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہے اور یہ آخر میں ہے۔اس لئے مالک کے پرے اور کون ہے جس کا انتظار ہو۔ختم نبوت کی دلیل ہے۔پھر قرآن میں ایک جگہ نبوت کا عظیم الشان معیار بتایا ہے اور وہ یہ ہے (النجم :۳) جو ہمارا ہادی ہو اس میں تین باتوں کا ہونا ضروری ہے۔اول وہ اجنبی نہ ہو جس کو کوئی جانتا بھی نہ ہو کیونکہ ایسا آدمی تھوڑے دنوں کے لئے نیک بن سکتا ہے۔حالانکہ ممکن ہے کہ وہ شریر ہو اس لئے ایسا شخص جوہادی ہونے کا مدعی ہو وہ تم میں سے ہی ہو جس کے حالات سے تم بخوبی واقف ہو۔دوم وہ بے علم نہ ہو۔سوم جو وہ تعلیم دیتا ہے اس کا عامل ہو آپ خلاف ورزی نہ کرے۔مکّہ والو! بتائو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے صاحب ہیں یا نہیں؟ ہیں پھر بے علم تو نہیں؟ بالکل نہیں۔پھر خلاف ورزی تو نہیں کرتا۔بالکل نہیں۔اب بتائو اس سے آگے کیا شرط ہوگی؟ یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔پھر فرمایا (النجم :۶) وہ جس کی طاقتیں بڑی مضبوط ہیں۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معلم ہے۔اس سے پرے کوئی طاقت نہیں۔پھر وہ ذُوْمِرّہہے بڑا مضبوط (النجم :۸) اس دل گردے کا انسان کوئی ہے؟ یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔پھر فرمایا۔(المائدۃ :۴) تعلیم اور ہدایت کو کامل کردیا۔اس پر کسی قسم کے اضافہ کی کبھی حاجت نہیں۔انسان کے لئے ایمان چاہئے۔محافظ ایمان چاہئے۔پھر معاملات تمدن ،معاشرہ ،اخلاق ،سیاست چاہئے۔معاملات میں بیع شرا ‘اجارہ استجارہ‘ رہن تداین‘ وصایا