خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 360 of 660

خطابات نور — Page 360

روح کی فطرتی تڑپ: غرض روح میں ایک تڑپ ہے۔میں تو اپنی روح کی شہادت دے سکتا ہوں۔میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے جو قریب تھا کہ خودکشی کرلیں۔یہ نظارے ہم نے طبیب ہونے کی حیثیت سے دیکھے ہیں لیکن جب ہم نے ان کو کہا کہ ایسا سامان کردیتے ہیں جس کی وجہ سے تم ایسا کرتے ہو تو انہوں نے بے حد مسرت ظاہر کی کیوں؟ وہاں بھی بقا کی فطرت کام کرتی ہے۔میرا اپنا دل چاہتا ہے کہ روح ابدالآباد کے لئے ہو۔پھر انبیاء علیہم السلام کی تعلیم عطاء غیر مجذوذ سے تو ایسی خوش ہوتی ہے کہ اس نبی کے قدم چوم چوم کر قربان ہو جائوں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یقین ہی سُکھوں کا موجب ہے۔میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ میرا مولیٰ دیکھتا ہے۔وہ تمام مولے جو فنا ہونے والے ہیں یہ سکھ نہیں دے سکتے اس لئے میں ان سب سے بیزار ہوگیا اور تمام ان تعلیموں سے بیزار ہوگیا جن سے بقائے روح کا مسئلہ صاف نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ اس نے فطرتی خواہشوں اور تقاضوں کو سیری کا سامان مہیا کیا ہے۔روح بقا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ آواز دیتا ہے ہاں ہم دیں گے۔روح علم چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم علمی ترقی دیں گے۔یہ علمی ترقی کہاں تک ہوگی؟ میں یقینا کہتا ہوں کہ اس کی کوئی حد نہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (جن کو میں اپنی بصیرت کے لحاظ سے کمالات جسمانی روحانی اور نبوت کا خاتم اور اس کے علاوہ سب میں کامل انسان یقین کرتا ہوں) کو بھی یہ تعلیم ہوتی ہے۔( طٰہٰ :۱۱۵) تو اپنے علم کی ترقی مانگ۔جب تمام نبوتوں، رسالتوں اور کمالات کے خاتم انسان کامل کو علمی ترقی کے لئے یہ دعا سکھائی جاتی ہے تو اس کلمہ کو دیکھ کر اور پڑھ کر دل اور بھی باغ باغ ہوگیا کہ یہ بھی اسی بقائے ابدی کا کرشمہ ہے۔پس یہ تعلیم ہے جو اسلام کے لئے متوالا کرتی ہے۔اپنے بعض کشوف: میں نے اس موجودہ ڈھچر میں بعد الموت لوگوں سے ملاقات کی ہے اور جنت و جہنم کے حالات اور نیکیوں اور بدیوں کے متعلق ان سے