خطابات نور — Page 358
عزت و وقار ہے اور دوسروں پر حکومت کرنے کو ملے یہ جسمی آرام ہے۔ایک طرف تو اس آرام کی خواہش دوسری طرف جسم کے لئے ایک وقت محدود کردیا بلکہ (الرحمٰن:۳۰) صوفیاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ انسان ہر آن میں فنا ہو کر نیا بنتا ہے جو حالت ہماری باپ کے جسم میں (برنگ نطفہ تھی) وہ آج نہیں۔پھر جو ماں کے پیٹ میں تھی وہ بھی نہیں پھر بچے تھے جوان ہوئے اور بڑھاپے میں اور ہی قسم کے اعضا ہوتے ہیں۔غرض یہ مسلّم بات ہے کہ یہ جسم ہر آن معرض تحلیل میں رہتا ہے۔اگرچہ ڈاکٹروں میں بحث ہے کہ تین سال بعد یا سات سال بعد یہ جسم بدل جاتا ہے۔مگر میں تو یہی مانتا ہوں کہ ہر آن تحلیل اور تبدیل ہورہا ہے۔پھر جب ایسے فنا پذیرکارخانہ کے لئے اس قدر انبیاء کتابیں تمدن کی طاقتیں بھیجی گئی ہیں جو ایک آن میں الگ ہوجاتا ہے تو دائمی بقا کے تقاضے کے لئے کیا کچھ ہوگا؟ ایک روح ہے۔اس میں ایک تڑپ ہے کہ ہم ضائع نہ ہوں۔جب سے انسان پیدا ہوا ہے۔میرا یقین ہے کہ اسی وقت سے اس نے طب کے لئے ہاتھ پیر مارے ہیں اور ہمیشہ اس میں ایجادات اور ترقیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے؟ کس قدر دوائیں نئے دن ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔کیوں؟ مطلب صرف یہ ہے کہ فنا ظاہری بھی طاری نہ ہو۔فطرتی تقاضے پورے ہوتے ہیں: جس قدر قویٰ انسان کو دئیے گئے ہیں اس کا سامان بھی ساتھ ہی عطا فرمایا گیا ہے۔میں نے دیکھا ہے مجھے جب فطرتی قویٰ دئیے گئے ہیں ان کا سامان بھی ساتھ ہی عطا فرمایا ہے۔آنکھ ملی ہے تو خدا کے فضل کے نیچے میری نظر مضبوط اور محفوظ ہے۔وہ تھکان محسوس نہیں کرتی۔اس کے ساتھ ہی میں دیکھتا ہوں فطرت میں عجیب عجیب خوشنما نظارے موجود ہیں۔ہر چیز جو جمال رکھتی وہ اسے خوش کرتی ہے۔قدرت کی دلچسپیاں دیکھ دیکھ کر میں مدتوں خوش رہتا ہوں۔مجھے کتابوں کا شوق ہے۔انہیں دیکھ کر بہت ہی خوش ہوتا اور قدرت کے تمام نظاروں سے (جو آنکھ کو اپنی طرف محو کرتے) بڑھ کر اس نظارہ سے مسرور ہوتا ہوں۔کبھی میں شاعر ہوتا توکتابوں کی سطروں اور الفاظ کو خط و خال سے تشبیہ دیتا۔غرض آنکھ کی دلچسپی اور سرور کے لئے جمال کا سامان دنیا میں موجود ہے۔پھر