خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 350 of 660

خطابات نور — Page 350

وہ اینٹیں نہ رکھتیں تو ضرور تھا کہ یہ چشمہ ایک ندی کی صورت میں تبدیل ہوجاتا) پانی پیا اور بچے کو پلایا (حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں) میرا یہ اپنا تجربہ ہے کہ آدمی اس چشمہ کا پانی پی کر سترہ دن تک گذارا کرسکتا ہے۔بعض جانوروں کا بھی پانی سے خاص تعلق ہوتا ہے۔پانی کے سبب سے وہاں پرندے بھی آن موجود ہوئے تھے۔ایک قافلہ کا گزر اس طرف سے ہوا۔انہوں نے پرندوں کو دیکھ کر پہچان لیا کہ یہاں کہیں ضرور پانی ہے۔کچھ آدمیوں کو پانی کی تلاش میں بھیجا۔ان آدمیوں نے آکر دیکھا کہ ایک عورت چشمے کے کنارے بیٹھی ہوئی ہے اور ایک شیرخوار بچہ اس کی گود میں ہے۔قافلہ والوں کو اطلاع دی۔قافلہ اس طرف آیا اور لوگوں نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو ہم یہاں ٹھکانا بنالیں (بستی کی طرح ڈالیں)۔حضرت ہاجرہ نے جواب دیا کہ ہاں ہم کو منظور ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہاں کی نمبرداری ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔قافلہ والوں نے اس کا وعدہ کرلیا اور مکانات بنالئے۔ایک مکان حضرت ہاجرہ کو بھی بنادیا اور ہر ایک قسم کی چیزوں میں سے تھوڑا تھوڑا حضرت ہاجرہؑ کو بھی دیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ کسی پر کتنی ہی مصیبت آجائے۔پر وہ صفا و مروہ پر جاکر دیکھ لے کہ ہم بھی ہیں یا نہیں؟ دوسری بات جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کا پتا دیتی ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ تیرے لڑکے اسمٰعیلؑ کی اولاد اتنی ہوگی کہ اگر کوئی شخص ریت کے ذروں کو گن سکتا ہے تو اس کو بھی گن سکے گا۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیلؑ کے ذبح کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہ پوچھا کہ اے خدا! تو نے تو وعدہ کیا تھا کہ اس کی اولاد بے شمار ہوگی۔اب تو اس کے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو اولاد کس طرح ہوگی۔بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے فوراً کمر بستہ ہوگئے۔دیکھو! ان کا کتنا ایمان تھا۔وہ خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان رکھتے تھے کہ اگر میرا لڑکا مر بھی جائے گا تو خدا تعالیٰ اس کے مردہ ذرات سے بھی اولاد پیدا کردے گا۔مجھ کو مثنوی کا یہ شعر بہت ہی پیار امعلوم ہوتا ہے۔ہر بلاکین قوم را حق دادہ است زیراو گنج کرم بنہادہ است دیکھو! اس ایمان کا خدا تعالیٰ نے کیسا اجر دیا۔بارہ لڑکے ہوئے ہر ایک ان میں سے سردار بھی