خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 660

خطابات نور — Page 31

(الممتحنۃ :۱۳) اے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تیرے پاس مومن عورتیں اس غرض کے واسطے آویں کہ وہ تجھ سے بیعت کر یں پس ان سے یہ اقرار لے کر بیعت کرکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔یعنی کوئی مَنّت اور نذر غیراللہ کی نہ مانیں اور نہ غیر اللہ سے مرادیں مانگیں۔چوری نہ کریں۔زنا نہ کریں ہاتھ کا زنا، کان کا زنا،ناک کا ،آنکھ کا اور وہ زنا تو بدرجہ ادنیٰ نہ کریں جسے عام زنا یا بدکاری کہتے ہیں‘ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں اولاد کو قتل کرنے کی کئی راہیں ہیں۔اول تو اس وقت کئی عورتیں اپنی لڑکیوں کو جب وہ پیدا ہوتی تھیں مار ڈالتی تھیں۔چنانچہ اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ ایسا ہوتا ہے۔دوئم اولاد ہونے کے بعد ایسی دوا کھاتی ہیں کہ جو مانع حمل ہو۔تیسرا حمل کا گرا دینا۔چہارم اگر لڑکیاں بیمار ہو جاویں تو ان کا علاج نہ کرنا اور یہ کہنا کہ ان کو موت کہاں آتی ہے۔پھر بہتان باندھنے سے باز آئو۔بہتان وہ عیب کی بات ہے کہ جو کسی شخص میں نہ ہو اور اس پر وہ عیب لگایا جاوے۔وہ بہتان جو تم اپنے ہاتھوں اور پائوں سے بناتی ہو اور بھلے کاموں میں تیری نافرمانی نہ کریں۔پھر ایسی عورتوں کے واسطے مغفرت مانگ۔پس ہر ایک عورت کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرید ہوناچاہتی ہے یا اپنے آپ کو مرید سمجھتی ہے یعنی مسلمان کہلاتی ہے ضروری ہے کہ وہ ان بری باتوں کو چھوڑ دے ورنہ وہ نام کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار میں شامل ہوکر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حصہ نہیں لے سکتی۔غور کرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قرآن کریم کے پہنچانے میں کتنی کتنی مصیبتیں بھی آئیں آخر حضور نے اس کو پہنچایا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس نے صرف خدا تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے سارے قرآن کو ایک بار بھی سمجھ کر پڑھا ہو یا سنا ہو۔ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی جس کو کافروں نے کہا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے مگر اس نے انکار کیا۔اس پر ان شریروں نے اس کی شرمگاہ میں برچھی مار کر گلے سے نکالی۔اس کا خاوند دیکھتا تھا اسے کہا تو بھی گالی دے ورنہ تیرا بھی ایسا ہی حال ہوگا چنانچہ اس نے بھی انکار کیا اور انہوں نے اس کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور