خطابات نور — Page 30
نتیجہ دیکھ صفاو مروہ پر کہ کیسے مقام پر ہاجرہ نے رہنا اختیار کرلیا جو بے کھیت کا ملک ہے پھرصبرکے بدلہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کو کیسا سکھ دیا۔میںنے تمہیں یہ چند آیتیں جو قرآن کریم کی سنائی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے چند ایک نصیحتیں اپنے بندوں کو فرمائی ہیں جن میں سے ایک صبر بھی ہے۔صبرکے نتیجے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کس طرح اور کیونکر دیتا ہے اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔جن کو اگر مفصل بیان کیا جاوے تو بیان بہت لمبا ہو جاتا ہے مگر میں تمہیں بتلائے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔شاید تم میں کوئی نیک بی بی ہو جو اس پر محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے عمل کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت تھی جس کا خاوند زمینداری کرتا تھااوران کا لڑکا بیمار تھا۔ایک روز خاوند باہر کام پر گیا اور پیچھے سے لڑکا فوت ہوگیا۔اس کی بیوی نے لڑکے کو ایک چارپائی پر ایک کونے میں لٹا دیا اور آپ خوب عمدہ لباس پہن کر خاوند کے آنے سے پیشترعمدہ کھانا تیار کر کے شاداں و فرحاں بیٹھ رہی۔جب خاوند آیا تو اس نے لڑکے کا حال دریافت کیا۔عورت نے جواب دیا اس نے آج آرام کیا ہے۔خاوند نے سمجھا کہ ٹھیک کہتی ہے جبھی تو اس نے عمدہ لباس پہنا ہے غرض دونوں نے کھانا کھایا اورہرطرح سے لطف اٹھایا جب کھانا کھا کر اور جماع سے بھی فارغ ہو چکے تو عورت نے خاوند سے پوچھا ہمارے پاس کسی شخص کی امانت کچھ روزرہے پھر وہ صاحبِ امانت اپنی امانت مانگنا چاہے تو ہم کو بخوشی وہ امانت دے دینا چاہیے یا نہیں؟ خاوند نے کہا کہ امانت والے کو دینا چاہیے۔پس عورت نے کہا کہ بچہ بھی امانت کے طور پر ہمارے پاس تھا۔صاحب امانت نے اسے لے لیا۔پھر خاوند ترساںوہراساں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا۔حضور نے فرمایا کہ اس صبر کے معاوضہ میں جو تیری بیوی نے کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو سات یا نو بچے دئیے جو سب کے سب قاری ہوئے ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے ان سب کو دیکھا ہے۔دیکھو کس قدر بدلہ عظیم اللہ تعالیٰ نے ایک صبر کرنے پر دیا۔سنو؟عورتوں میں دستور ہے کہ جب دو چار مل کر بیٹھتی ہیں تو غیبت ، بد گوئی ، گلہ اور طرح طرح کی شرارتیں کرتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب عورتیں آپ کی مرید ہونے کو آتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔