خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 660

خطابات نور — Page 318

طرز پر حضرت صاحب کی وفات کا واقعہ بیان کرتا تو میں نے چونکہ مرثیہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں اور میں ان طریقوں کو جانتا ہوں اور خنساء کا دیوان میں نے پڑھا ہے۔میں تمہیں رُلا دیتا مگر میں جانتا ہوں اس سے کچھ فائدہ نہیں۔وہ بات جو خدا کو پسند ہے وہ کچھ اور ہے۔خدا تعالیٰ کو ایک گریہ پسند ہے مگر وہ الفاظ سے پیدا نہیں ہوتا۔اس کی راہیں اور ہیں۔اور علاوہ بریں میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے کام کسی کے بقا اور عدم بقاء پر موقوف نہیں۔وہ ایک شخص کو نبوت دے کر بھیجتا ہے۔پھر جبکہ اس کے علم میں وہ کام ختم کرچکتا ہے۔تو اسے واپس بلالیا جاتا ہے۔بعض انسان ان کے واپس بلانے سے ابتلا میں پڑتے ہیں اور وہ اپنی جگہ اس کو قبل از وقت سمجھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت عمرؓ جیسا انسان بھی کہتا ہے کہ ابھی وفات نہیں ہوئی کیونکہ ان کے نزدیک ابھی بہت سے کام باقی تھے۔مگر خدا تعالیٰ اپنے کام کو خوب جانتا ہے۔غرض میں نے اپنے اس لیکچر میں کسی ترتیب کو مدنظر نہیں رکھا۔دوسرا مقصد خطبوں میں یہ ہوتا ہے کہ اپنے اغراض کو بیان کیا جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ جب بھان متی کا تماشا ہوتا ہے تو آخر میں وہ کہتا ہے کہ ایک اور بڑا کھیل باقی ہے مگر میں اس کو دکھائوں گا۔جب کچھ پیسے جمع ہوجائیں مگر خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ظاہر کرتا ہوں کہ میں اپنی کوئی غرض تم سے نہیں رکھتا کہ تم سے روپیہ لے کر جیب میں ڈال لوں۔جس مولیٰ نے مجھے ایسی عجیب آنکھ، ناک، کان، زبان اور دوسرے اعضاء دئیے۔پھر اس نے مجھے معزز قوم میں پیدا کیا۔ماں بھی معزز قوم سے تھی اور باپ بھی۔یہ سب میرے مولیٰ نے اپنے فضل سے مجھے دیا۔پھر علم دیا اور اس کتاب سے محبت دی جو اس کی کتاب اور اس کا کلام ہے۔پھر اس کا فہم دیا اور اس کے متعلق سامان دیا۔ہزاروں، لاکھوں کتابیں میری آنکھوں سے نکلیں اور خدا ہی کے فضل سے دماغ میں موجود ہیں۔پھر جس خدا کے اتنے بڑے فضل مجھ پر ہیں وہ اس آخر عمر میں مجھے کسی کا محتاج کرے گا؟ کبھی نہیں اور کیا پھر میں خدا کے فضلوں کا ایسا تجربہ کار ہو کراب لعنت کی موت مرنا چاہتا ہوں کہ تم سے کچھ فریب سے حاصل کروں۔نعوذ باللّٰہ من ذالک اس کے بعد اب میں دو غرضیں پیش کرتا ہوں۔اوّل جو حقیقی غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے۔ہر ایک چیز دو طرف حرکت کرتی ہے۔ایک اوپر کو اور دوسری نیچے کو۔جو لوگ پتنگ اڑاتے