خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 660

خطابات نور — Page 317

کہ تم کو سنانے والا ایسا نہیں۔اس نے اگر چندہ کا ذکر کیا ہے۔تو سولہ سو اپنے چندہ کا پہلے فیصلہ کرلیا ہے۔عبادت میں بھی تو غلو نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ رہبانیت اختیار نہ کرے۔یا ہمیشہ روزے ہی رکھے۔اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمیشہ مدّنظر رہنا چاہئے۔معاملات اور عادات میں تکلّف کو چھوڑ دے۔میں لکھنؤ میں پڑھتا رہا ہوں اور تکلّف کی حقیقت سے خوب واقف ہوں کہ زبان، خوراک، کلام، لباس میں کیسا تکلف تھا۔دلیّ اور لکھنؤ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔میں دلیّ میں پڑھا نہیں ہوں۔میں نے بہت کوشش کی کہ نذیر حسین سے کچھ پڑھوں اور کئی بار قصد کیا مگر موقع ہی نہ ملا اور اس کی حکمت مجھ پر اب کھلی۔جب اس نے حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ دیا۔اور دلی کے قدماء میں سے میں نے شاہ ولی اللہ صاحب، حضرت محمد اسماعیل صاحب، حضرت شاہ عبدالغنی صاحب اور حضرت غلام علی صاحب رحمھم اللّٰہ سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔پھر طہارت و نجاست میں لوگ وسواس کرتے ہیں۔اخلاق میں عجز و کسل سے کام لیتے ہیں۔یہ مفید نہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کو وارث نبی کریم کا فرمایا ہے۔مگر ان کی جو عزت کی جاتی ہے وہ تم جانتے ہو۔اس لئے کہ انہوں نے علم کا اصل منشا چھوڑ دیا اور لا الٰہ الّا اللّٰہ کے مفہوم سے دور جا پڑے۔الفاظ کو یاد کرتے ہیں اور معانی کو چھوڑتے ہیں۔میرا ایک نہایت پرانا مخلص دوست ہے۔اس نے ایک مرتبہ دعا کی۔اس کے پاس سو روپیہ جمع ہوگیا۔پھر دعا کی کہ سو روپیہ جمع نہ ہو۔اس کا بیٹا ہے۔اس نے کبھی اس دعا کی قدر نہیں کی۔اس کا سرّ کیا ہے؟ وہ مزہ جو خدا کو راضی کرنے کا ہے اس نے نہیں پایا۔علماء کی تو یہ حالت ہے۔صلحاء میں صرف دعوے ہیں۔کافیوں کے عجیب عجیب الفاظ یاد کر رکھے ہیں مگر منشاء الٰہی سے دور ہیں جو (الشّمس :۱۰) میں مذکور ہے۔اس طرح پر ان کی حالت بھی بگڑی ہوئی ہے۔لوگ لیکچروں میں عموماً تین باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔مشاقی سے الفاظ جمع کرتے ہیں اور کبھی ہنسا دیتے ہیں اور کبھی رُلا دیتے ہیں۔سو میں اگر اس کے ماتحت اپنا لیکچر رکھتا تو مجھے بہت سے الفاظ یاد ہیں اگرچہ میں نے ان کو لیکچر دینے کے لئے کبھی یاد نہیں کیا۔تاہم مجھے یاد ہیں اور میں اس