خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 286 of 660

خطابات نور — Page 286

۔غرض ایک نیا شوق اور نیا خیال پیدا ہوا۔یہ شفقت علیٰ خلق اللہ کا خیال تھا اور اس کے ساتھ یہ سمجھ میں آیا کہ اس آیت کے لحاظ سے انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے۔اجتماع کی خواہش: اور یہ حاجتیں تب ہی پوری ہوسکتی ہیں کہ اجتماع ہو۔پس صمدیت نے مجھے طب اور اجتماع کی طرف متوجہ کیا اور میں دیکھتا تھا کہ شروع سے یہ سلسلہ جاری ہے۔اولاً ماں کی گود میں رہے پھر حاجتیں اور پیدا ہوئیں تو اس گود کو چھوڑ دیا انہوں نے کئی بار کہا کہ نور! تو اب گود میں نہیں آتا۔میں کہہ دیتا کہ اب اس کا وقت نہیں۔پھر بھاوج کی گود میں رہ کر ایک فیضان اٹھایا۔پھر اسے چھوڑا تعلیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ایک میاں جی سے قاعدہ پڑھتے ہیں۔پھر دوسرے سے کچھ اور تیسرے سے اور‘ غرض دیکھا کہ اجتماع کرتے آئے اور وقتی ضرورتوں کے موافق چھوڑتے آئے۔یہ عجیب تماشا تھا۔پھر جوان ہوئے اور اس حالت کے ماتحت خیال آیا کہ کوئی ساتھ ہو۔شادی کی ضرورت اور عمر: چنانچہ تیس سال سے متجاوز ہو کر میں نے شادی کی اور پھر اس نکاح سے میں نے بہت ہی فائدہ اٹھایا اور قرآن مجید کی اس اصلکوپایا۔(الرّوم :۲۲)۔اس تعلق نے پھر ایک اور نیا اجتماع شروع کیا وہ اولاد سے تمتع تھا مگر میں نے اس سے پہلے دیکھا کہ فی الواقعہ سکون اور غمگساری میں نے اسی رشتہ میں۔۔۔۔۔پائی تو مجھے یقین ہوا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب نے اس رشتہ کی غرض و غایت جو بیان کی ہے وہ بہت ہی درست ہے اور یہ خالق فطرت کا کلام ہے۔غرض ان تعلقات میں ایک لمبا سلسلہ چلتا ہے۔اولاد ہوئی اور اولاد ہو کر مری تو مشکلات کا ایک نیا سلسلہ نظر آیا اور بعض وقت تو عجیب عجیب کیفیت ہوئی۔غم میں تسلی کا نور: بلکہ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں ایک نماز میں امام تھا اور قلب پر بعض دکھوں کا اثر تھا۔اس لئے شرح صدر سے الحمدللّٰہ کہنے میں قلب نے مضائقہ کیا کہ جب یہ حالت ہے تو الحمد کیسی؟ مگر میں قربان جائوں قرآن کریم پر اور اس کے لانے والے پر کہ بجلی کی طرح میرے دل میں یہ بات آئی کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ ہم مصائب