خطابات نور — Page 275
کلمہ شہادت کے دونوں حصوں کی اغراض {تقریر فرمودہ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۸ء بعد نماز ظہر و عصر} اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہ‘ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کلمہ شہادت اور اس کے دونوں حصوں کی غرض: یہ وہ کلمہ ہے جس کو ہماری زبان میں کلمہ شہادت کہتے ہیں۔اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک اکیلا معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں نہ اس کی ذات میں نہ صفات میں نہ افعال میں۔دوسرے حصہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور اسی کے رسول ہیں۔اس کلمہ شہادت کے پہلے حصہ کے اظہار اور تعلیم کے لئے سلسلہ کائنات میں انبیاء ورسل آتے رہے اور ان کے بعد ان کے خلفاء و جانشین ہوتے رہے اور وہ یہی ہدایت اور تعلیم دیتے رہے۔لا الٰہ الا اللّٰہ ان سب کی ایک ہی غرض رہی اور ہمیشہ یہی غرض رہی کہ لوگ لا الٰہ الا اللّٰہ کہیں اور سمجھیں اور یقین کریں۔ایسا ہی ہوتا رہا اور ہوتا آیا مگر ایک زمانہ گزرنے کے بعد ان ہادیوں کو جو یہ تعلیم لے کر آئے تھے ان کے ماننے والوں نے غلطی سے ہادیوں کو معبود بنالیا اور اس طرح پر وہ غرض جو ان کی تعلیم اور بعثت کی تھی فوت ہوگئی اور لا الٰہ الا اللّٰہ کی بجائے شرک پھیل گیا۔اس غلطی اور مصیبت سے نجات دینے کے لئے اور توحیدالٰہیہ کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور آپ نے اس غلطی کو جو مختلف ہادیوں کو معبود بنانے کے متعلق دنیا نے کھائی اس طرح پر ہمیشہ کے لئے دور کردیا کیونکہ کلمہ شہادت کا دوسرا جزو اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ قائم کردیا۔پس یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاص فضیلت ہے کہ آپ نے کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ کی تکمیل کردی اور وہی اس کے مستحق تھے۔تمام قرآن کریم کو غور سے دیکھو گے تو اصل منشاء لا الٰہ الا اللّٰہ ہی کا قائم کرنا ہے اور تمام سلسلہ نبوت و رسالت اسی مقصد کے لئے قائم ہوا۔اور اب اس سلسلہ کی بھی اس لئے ضرورت ہوئی