خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 660

خطابات نور — Page 274

حضرت یوسفؑ نے اپنی عفّت اور طہارت کا جو نمونہ دکھایا وہ ایک ظاہر امر ہے۔پس ان دو بچوں کے ذ<mark>کر</mark> سے تمہیں خدا تعالیٰ کی اطاعت اس کے رسول کی اطاعت اور اولوالامر کی اطاعت اور وفاداری کا سبق لینا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی عفّت اور طہارت کی زندگی بسر <mark>کر</mark>نے کے لئے خدا تعالیٰ کی توفیق کو مانگنا چاہئے۔دعا بہت بڑا ہتھیار ہے۔اس کو کبھی ہاتھ سے نہ دو۔یہ آپ کی پہلی تقریر کا خلاصہ ہے۔دوسری تقریر دوسری تقریر میں آپ نے اس امر پر زور دیا کہ وحدت پیدا <mark>کر</mark>نی چاہئے۔اولاً آپ نے نظارہ عالم سے دکھایا کہ دنیا میں اختلاف موجود ہے لیکن باوجود اختلاف کے پھر بھی ایک اتحاد ہے اگر اس اتحاد سے کام نہ لیا <mark>جا</mark>وے تو یہ سارا کام بگڑ <mark>جا</mark>وے۔اس موقع پر آپ نے مختلف مثالوں کے ذریعہ سے صداقت کو بتایا۔پھر طلباء کو مخاطب <mark>کر</mark>کے فرمایا کہ تمہارے مدرسوں میں رسہ کا ایک کھیل ہوتا ہے۔اس کی تعلیم قرآن مجید کی ایک آیت سے ملتی ہے۔(اٰل عمران :۱۰۴)۔یہ رسہ جو مدرسوں میں ورزش کے لئے رکھا <mark>جا</mark>تا ہے جب تک متحد طاقت سے اسے ایک جماعت نہ کھینچے وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔اسی طرح پر اس وقت ضرورت ہے کہ ہم قرآن مجید کے حبل کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔اسلام پر سخت حملے ہورہے ہیں۔فلاسفر اپنے رنگ میں‘ حکیم اپنے طرز پر اور طبابت والے اپنے طریق پر‘ عیسائی ، آریہ، برہمو اور مختلف فرقوں اور مذاہب کے لوگ جداجدا چاہتے ہیں کہ وہ اس پاک تعلیم کا نام و نشان مٹا دیں۔بیرونی حملہ آور ہی نہیں اندرونی لوگ بھی بگڑے ہوئے ہیں ان کی <mark>علم</mark>ی اور <mark>عمل</mark>ی طاقتیں کمزور ہوچکی ہیں۔ایسی حالت میں سب کا فرض ہے کہ ہم <mark>عمل</mark>ی طور پر اس رسن کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔پس وحدت پیدا <mark>کر</mark>و اور <mark>عمل</mark>ی طور پر۔(الحکم ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۸ء۔صفحہ۶،۷)