خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 258 of 660

خطابات نور — Page 258

حقیقۃ۱؎ الوحی، چشمہ معرفت اور پیغام صلح لکھ کر اور لاہور میں امراء کو بلا کر ان پر حجت قائم کرکے اس دنیا سے حسب بشارات چل دیا۔(۱) بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید (بدر ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۸ء)۔(۲) ڈرو مت مومنو (۱۵؍مئی ۱۹۰۸ء)۔(۳) تیری خوش زندگی کا سامان ہوگیا ہے۔(۴) سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہوکر دعا کرتے رہو۔الوصیۃ اب وہ اس دنیا میں رہ کر کیا کرتے۔کیا تمام مخالفوں، مرتدوں، دشمنوں کا قلع و قمع کرکے اپنے جانشینوں کو مساعی جمیلہ اور کوشش و اجتہاد سے محروم کرکے جاتے اور جو ترقیات ابتلائوں محنتوں سے ہوتی ہیں اور جوجو نیک بدلے اور صلوات و رحمتیں و برکات صبر پر ملتی ہیں ان سے ہم لوگوں کو محروم کرجاتے۔عزیزان! یہ لوگ دنیا کے لئے نور، رحمت اور برکت ہوتے ہیں۔جب دنیا روحانی دکھوں میں مبتلا ہوکر تباہ ہونے کو ہوتی ہے۔جیسا   (الروم: ۴۲) سے ظاہر ہے کہ ایک وقت ہوتا ہے کہ حضرت حق سبحانہ‘ کا رحم، کرم، ستاری، غنائے ذاتی اور بے پروائی کام کرتی ہے اور بدکار کو اس کی بدکاری پر عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔اور پھر ایک اور وقت آتا ہے کہ چور پکڑا جاتا ہے ڈاکو کو سزا ملتی ہے اور ظالم اپنے ظلم کا پھل کھاتا ہے۔سزا کا زمانہ آنے سے کچھ طبائع میں نئے زمانہ کا شوق پیدا ہوجاتا اور اپنے موجودہ حالات سے گو نہ سیر ہی نہیں ہوجاتے بلکہ تنگ آجاتے ہیں۔ادھر حق کی تڑپ بعض نفوس میںپیدا ہوجاتی ہے دنیا کی بے ثباتی، کثرت اموات اور دنیا کے مشکلات کی حقیقت قحطوں اور جنگوں سے سامنے آجاتی ہے۔اس سنت اللہ پر غور کرو اور پھر غور کرو۔آپ کے زمانہ کو دیکھو، قحط کے علاوہ جنگ ٹرنسوال و برطانیہ اور روس و جاپان نے کیسے جوانوں کے اقارب و احباب میں دنیا کی بے ثباتی کے نقشہ کو پیش کیا اور قحط نے کنبہ والوں کو کن مشکلات کا نظارہ دکھایا۔پھر طاعون نے بقیۃ السیف اور بقیۃ القحط لوگوں کو کیا وعظ کیا۔بائبل کا مجموعہ صدہا تراجم کے ذریعہ خدا کے نام سے آگاہ کرکے لوگوں کو مجرم کر چکا اور پھر قرآن کریم اپنے تراجم کے ساتھ اور اس ملک میں برہمو پھر ان کے بعد آریہ نے بھی اوم نام پیش کرکے ہندوستان کو بہت وعظ کیا یہ تو عام کارروائی اور حجت ملزمہ تھی مگر پنجاب میں خصوصیت سے ایک اس انسان حضرت میرزا نے پیدا ہوکر ۱؎ ان کے علاوہ چشمۂ مسیحی اور قادیان کے آریہ اور ہم‘ عیسائیوں اور آریوں کے لئے قلم برداشتہ لکھیں۔منہ