خطابات نور — Page 236
پھل کیا ہیں۔اسی طرح ہمیں خیال آتا ہے کہ ملائکہ کا ایمان کیاہے اور کیوں ہے۔لوگ کہتے کہ ہم ملائکہ کو نہیں مانتے۔پر ہم تلاش <mark>کر</mark>تے ہیں کہ ان سے محبت کس طرح بڑھانی چاہیے۔بہت لوگ اس طرف بھی جھکے ہیں کہ ملائکہ کوئی نہیں۔چنانچہ آریہ دیوتا کے معنے <mark>کر</mark>تے ہیں یا معمولی انسان فضیلت والا‘پر اگر ایسی بات ہوتی تو اس پر ایمان لانے کی کیا ضرورت تھی۔میرا تو حق الیقین ہے کہ ملائکہ کا ایمان نیکی کی جڑھ ہے۔ا س کی دلیل یہ ہے کہ جب ہم بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں (دنیا مانتی ہے کہ کوئی کام دنیامیں <mark>بے</mark> سبب کے نہیں ہوتا۔مثلاًہم ایک بچہ کی بازی چھپا لیں تو وہ ہم سے طلب <mark>کر</mark>تا ہے۔کیونکہ وہ <mark>جا</mark>نتا ہے کہ <mark>بے</mark> سبب یہ غائب نہیں ہوئی۔کوئی نہیں مانے گا کہ میں نہیں بولتا دیوار سے آواز آرہی ہے۔)تو بعض دفعہ معاًایک نیکی کا خیال آ<mark>جا</mark>تا ہے۔یا عین بد کاری میں ایک نیکی کا خیال آ<mark>جا</mark>تا ہے۔بعض دفعہ نماز پڑھتے ہوئے اس کے دل میں ریا آ<mark>جا</mark>تا ہے۔میںنے ایک دفعہ صبح کی نماز گھر میں پڑھی تو بہت مختصر <mark>کر</mark> دی اور ایک دفعہ پھر مسجد میں صبح کی جماعت <mark>کر</mark>انے لگا تو لمبی قراء ت شروع <mark>کر</mark>دی۔معاًدل میں خیال آیا کہ تو نے گھرمیں جہاں لمبی قراء ت چاہئے تھی چھوٹی کی اور مسجد میں جہاں چھوٹی قراء ت چاہئے تھی لمبی شروع <mark>کر</mark>دی ہے۔پس غور <mark>کر</mark> کہ کیا یہ ایمان کا مقتضاء ہے ؟جھٹ سلام پھیر <mark>کر</mark> راستہ لیا۔کسی نے سمجھا جنبی تھا۔کسی نے کچھ خیا ل کیا اور کسی نے کچھ۔پس انسان کو بیٹھے بیٹھے کبھی نیک اور کبھی بد ارادے پیدا ہو <mark>جا</mark>تے ہیں یہ کیوں ہوتے ہیں جبکہ کوئی کام بدوں اسباب اور علل کے نہیں ہوتا۔تو نیک اور بد ارادے کی تحریک کیوں ہوئی۔اس محرک کو ہماری شریعت میں فرشتہ کہتے ہیں۔ہم اسی پر قناعت <mark>کر</mark>تے اور نیکی کے محرک کا نام فرشتہ رکھتے ہیں۔رسول <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ و شیاطین کو ہر وقت انسان کے دل سے تعلق رہتا ہے اور موقع پر تحریکیں <mark>کر</mark>تے ہیں۔اگر وہ تحریک نیکی کی ہے تو فرشتہ کی طرف سے ہے اور بتدریج پھر وہ تحریک ہوتی اور بڑھتی <mark>جا</mark>تی ہے اور وہ انسان اس میں لگ پڑتا ہے۔یہاںتک کہ اس کے ملائکہ اور شیاطین میں جنگ ہو پڑتی اور ملائکہ جیت <mark>جا</mark>تے اور پھر وہ شخص فرشتوں سے مصافحہ <mark>کر</mark> لیتا ہے۔اس کے متعلق قرآن <mark>کر</mark>یم میں فرمایا۔