خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 232 of 660

خطابات نور — Page 232

پھر انسان طاقتوروں کا بھی اپنا بننا چاہتا ہے مثلاً حکام کا جیسے کوئی شخص کہہ دیتا کہ فلاں ڈاکٹر یا فلاں حکیم یا فلاں ڈپٹی انسپکٹروغیرہ میرا اپنا ہے یعنی میرا دوست ہے۔پس جو لوگ مذہب کے پابند ہیں یعنی خد اکی ہستی کو مانتے ہیں (کیونکہ اس وقت میں خدا کی ہستی پر بحث کرنے کے واسطے کھڑا نہیں ہوا۔اور وہ اور قومیں جن کے سامنے ہمیں یہ بحث کرنے کی ضرورت ہوتی ہے)وہ اس ہستی کو خوب جانتے ہیں کہ وہ بڑا علیم اور قادر ہے۔اگر کوئی شخص اس پر اعتراض بھی کر دے تو میں تھوڑا سا ثبوت دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میرے ایک بڑے مہربان نے مجھ پر سوال کیا کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ(المائدۃ:۹۸)۔یعنی کعبہ ہم نے ایک عزت کا گھر بنایا ہے وہاں لوگ حج کو جاتے اور قربانیاں کرتے وغیرہ۔یہ اس لئے کہ خدا ہے اور قادر ہے اور علیم ہے۔کیا یہ دلیل مکہ کے وجود سے ثابت ہو جاتی ہے اگر کوئی شخص کہہ دے کہ دو ہزار برس تک یہ جہت ایسا ہی مکرم اور معظم رہے گا۔کیا کوئی عالم یہ دعو یٰ کرسکتا ہے ہرگز نہیں۔پھر خدا کہتا ہے کہ ہم نے اس مسجد کو عزت والا بنا دیا ہے دنیا کی ہزاروں سلطنتیں پلٹ جاویں دنیا الٹ پلٹ ہو جاوے اور یہ سب کچھ ممکنا ت میں سے ہے پر ایسے جنگل و بیابان میں ایک کو ٹھہ ہے اوراس کے لئے دعویٰ کیا جاتا ہے اور دنیا میں شور مچا دینا کہ اس کو مٹا کر تو دکھلائو۔پھر اس کو کوئی مٹا نہ سکے گا پھر یہ بات کیسی پوری ہوئی یہ اس لئے کہ تمہیں پتا لگ جاوے کہ کوئی خدا کی ذات ہے اور وہ زمین و آسمان کی باتیں جانتاہے اور یہ کہ وہ ہر ایک بات کا جاننے والا ہے اور وہ قادر ہے۔پس جب ایسے علیم وقادر سے محبت ہو تو پھر کیا بات ہے۔متقی کے واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱۔(التوبۃ:۴)۔اللہ متقی کو پیار کرتا ہے ۲۔(المائدۃ:۲۸)۔اللہ قبول کرتا ہے متقی کی بات کو۔۳۔(البقرۃ:۲۸۳)۔متقی کو وہ علم سکھائیں جو تمہیں نہیں آتا۔۴۔(الطلاق:۳،۴) متقی کو ہر تنگی اور دکھ سے نکلنے کا راستہ ہم بتا دیںگے اور اس کو اتنا رزق دیں گے کہ وہ شمار بھی نہ کر سکے