خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 660

خطابات نور — Page 231

(البقرۃ:۱۷۸) یہاں اسلامی شریعت نے تقویٰ کے معنی بتلائے ہیں۔تقویٰ کی جڑ شاخوں اور اس کی روکوں کا اظہار کیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ سچے متقی کون ہوتے ہیںمیں نے اس پہلی زیر نظر آیت کے لفظ تقویٰ کی تفسیر کے واسطے یہ دوسری آیت پڑھی ہے۔ٰلکن میرا جی چاہتا ہے کہ تمہیں پہلے یہ بتائوں کہ تقویٰ کیا ہوتا ہے کبھی جی چاہتا کہ تمہیں پہلے یہ بتلائوں کہ تقویٰ کے نتائج کیا ہو تے ہیں۔کیونکہ جب نتیجہ مد نظر ہوتا ہے تو انسان اس کام کو شرح صدر سے کرتا ہے۔پس پہلے، مجھے بھی یہ پسند ہے کہ تمہیں بتائوں کہ تقو یٰ کے نتائج کیا ہیں پس مختصراًبتلادیتا ہوں۔ایک مومن کی طبیعت چاہتی ہے کہ صرف اس لئے کہ ہمارے مالک رب العالمین کا حکم ہے ہم ماننے کو تیار ہیں ہمیں بتلادو کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔مگر ایک اور شخص یہ سوال پیش کر سکتا ہے کہ ہم کسی کام کو کر نہیں سکتے جب تک ہمیں یہ علم نہ ہو کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔پس بہتر ہے کہ ہم پہلے نتائج کا ہی اظہار کریں۔ہر ایک انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ میں ایک طاقت عظیم یا عظیم کا محبوب بن جائوں۔جب یہ خواہش موجود ہے تو ایک بیمار جو بہت طبیبوں کا علاج کر چکا ہے مفلس ہو گیا ہے۔گھر والوں کو دوبھر معلوم ہوتا ہے۔پر جب وہ ہر طرف سے تھک کر میری طرف آتا ہے تو اخراجات کثیر کا زیر بار ہو کر آتا اور پھر میرے سامنے نذر رکھتا ہے۔حالانکہ کیا اس کو یقین ہے کہ اس سے مجھے شفامل جاوے گی۔یا اس کی طبابت اکمل ہے۔پھر ہماری طبابت ہی کیا ہے۔اس کا بہت سارا حصہ کنچنیوں ‘ ڈاکٹروں ‘ حجاموں ‘ جراحوں کے سپرد ہے اور بہت تھوڑا حصہ ہمارے پاس ہے۔پھر باوجود اس قلیل مقدار طب کے پھر وہ ہمارے ہاتھ سے زہر کھانے کو بھی تیار ہے۔پس یہ وہی بات ہے کہ اپنے سے زیادہ عظیم کا متبع بننا چاہتا ہے۔