خطابات نور — Page 224
حضرت عمرؓ جیسے جلال والے انسان کا مقابلہ قرآن کریم سے بھی کرتی تھی۔اس بی بی پر لوگوں نے اتہام لگایا تھا ان کے گلے میں ایک ہار تھا کس چیز کا۔سلیمانی منکے اور کچھ لونگ اس میں پروئے ہوئے تھے وہ لشکر سے باہر پاخانہ پھرنے کو گئیں تو وہاں ہار ٹوٹ پڑا اس کو چننے لگیں یہ نو برس کی بیاہی گئیں اور ۱۸ برس کی بیوہ بھی ہو گئیں تھیں اور۶۳ برس کی عمر میں فوت ہو گئیں تھیں۔اس عرصہ میں مسلمانوں کے بہت انقلاب دیکھے چونکہ بہت ہلکی پھلکی تھیں ساربانوں نے ان کا ڈولا اونٹ پر کس دیا اور چل دئیے۔کسی کو معلوم نہ ہوا کہ آپ اس میں ہیں کہ نہیں جب یہ جنگل سے واپس اس مقام پر آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا ہے جوانی کے ایام تھے نیند نے غلبہ کیا اور سو گئیں۔ایک شخص ہمیشہ لشکر میں پیچھے رہتا ہے کہ گری پڑی چیز اٹھا لاوے چنانچہ صفوان صحابی اس کام پر مامور تھا۔جب اس نے دور سے بی بی کو پڑا ہوا دیکھا تو سمجھا کہ کوئی عورت فوت ہو گئی ہے اور یہیں چھوڑ کر قافلہ چلا گیا ہے اور زور سے انا للّٰہ پڑھا۔آواز سن کر آپ جاگ اٹھیں۔پھر صفوان نے ان کو اونٹ پر سوار کیا اور خود آگے آگے ہوا اور دوپہر کو لشکر میں لے کر پہنچا لیکن بہت سارے شریر اور بدگمان لوگوں نے کہا کہ شاید کسی بدی کی وجہ سے بی بی پیچھے رہ گئی ہیں۔جب یہ خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو حضرت عائشہ ؓ ان دنوں میں بیمار تھیں ان دنوں گھروں میں پاخانہ نہیں ہوتا تھا ایک روز آپ باہر پاخانہ کو گئیںتو ایک بڑھیا ساتھ تھی۔ساتھ والی بڑھیا راستہ میں گر پڑی (عورتیں بات دل میں نہیں رکھ سکتیں) گر کر اپنے بیٹے کو سخت گالی نکالی۔بی بی نے منع کیا۔غرض تین دفعہ اسی طرح کیا اور تین دفعہ بی بی نے منع کیا تو کہنے لگی کہ تجھے خبر نہیں تجھ پر لوگوں نے تہمت لگائی ہے اور اس میں میرا بچہ بھی شریک ہے اس لئے اس کو گالی دیتی ہوں۔پس صدیقہ اسی دن اپنے میکے میں چلی آئی۔ایک مہینہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور کہا عائشہ اگر تجھ سے غلطی ہوئی ہے تو استغفار کرو اگر نہیں ہوئی تو خدا تعالیٰ مجھے وحی سے آگاہ کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ غیب کی کنجیاں اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے بہت لوگ ان کو خدا کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔یاد رکھو کہ خدا بڑا بادشاہ ہے ُکل انبیاء اولیاء مرسل اس کی قوت کے نیچے رہتے ہیں اور جس کو وہ چاہتا ہے اس کو اطلاع دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیات نازل کیںاور اسی بی بی کا پاک اور مطہر ہونابتلایا۔فرمایا: (النور: ۱۳)۔