خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 660

خطابات نور — Page 188

درمیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بروز علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان۔بہادر ہو خدا کے حضور اپنے تئیں راست باز اور مقرّب سمجھتے ہو تو پھر آؤ میری موت کے لئے بد دُعائیں کرو اور منصوبے باندھو کہ میں مر جاؤں۔پھر دیکھ لو گے کہ کون کامیاب ہوتا ہے چنانچہ غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کس قدر کوششیں اور ناپاک منصوبے کئے گئے اور آپ کی جان لینے کے لئے کونسا دقیقہ تھا جو باقی رکھا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے کیسے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔(المآئدۃ :۶۸) میں الموت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی آرزو اور کوشش کیوں کرتا ہوں اس کا ایک زندہ ثبوت ہے احمد ؑ مظہر نے دنیا کے تمام سجادہ نشینوں اور سیفی پڑھنے والوں کو کہا ہے کہ میرے لئے بد دُعا کرو اور پھر دیکھو کہ وہ کس پر الٹ پڑتی ہے۔مخالف جو بد دُعائیں کرتے ہیں ان کی بد دُعائیں ان پر لوٹیں گی جو موت کی آرزو کرتے ہیں خود موت کا نشانہ بنیں گے اور آخر ان کو ماننا پڑے گا اور یامنافقانہ رنگ میں خاموش ہوجائیں گے اور ملل ہالکہ چوڑھوں چماروں کی طرح زندگی بسر کریں گے۔۱۲؎  یہ کبھی بھی مرد میدان ہو کر نہ نکلیں گے اور الموت کی تمنّا نہ کریں گے مباہلہ کے لئے نہ آئیں گے۔لوگوں کے سامنے چونکہ انکار نہیں کر سکتے اس لئے ایسی شرائط اور حجتیں پیش کریں گے جن کا آخری نتیجہ یہ ہو کہ مباہلہ نہ کرنا پڑے کیونکہ اپنی بداعمالیوں اور ایمانی کمزوریوں کو تو خوب جانتے ہیں صرف پر دہ دری کے لئے حیلے بہانے کرتے ہیں اور دنیوی مفاداور منافقوں کو نقصان سے بچانے کی خاطر۔یہ بجائے خود کیسی حیرت انگیز اور عظیم الشان تحدّی ہے جس میں مخالفوں کو غیرت بھی دلائی گئی ہے کہ کبھی بھی مباہلہ میں نہ نکلیں گے اب اگر وہ اپنی ذاتی شعور اور بصیرت سے اپنے ایمان میں قوت پاتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق پر نہیں سمجھتے تو پھر کونسا امر ہے جو ان کو اس تمنّٰی سے روک سکتا ہے وہ اتنا ہی غور کریں کہ اس میدان میں نہ نکلنے سے کی پیشگوئی پورا کرنے والے ٹھہریں گے مگر آخر خدا تعالیٰ کی ہی باتیں سچی اور لا تبدیل ہوتی ہیں۔یہی سچ ہے کہ وہ کبھی الموت کی تمنّانہ کریں گے کیونکہ  (التغابن:۵ )۔