خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 660

خطابات نور — Page 175

طبیعتیں بہت جلد اس اثر کو قبول <mark>کر</mark>تی ہیں تو آج کل تصانیف کے ذریعہ جو زہر مشنری گروہ نے پھیلایا ہے اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر رنگ میں فلسفہ ، تاریخ، طب وغیرہ ہر شاخ <mark>علم</mark> اور ہر کتاب میں مذہب سے مغائرت اور آزادی کاسبق پڑھایا <mark>جا</mark>تا اور اسلام کی پاک تعلیم پر کسی نہ کسی رنگ میں حملہ کیا <mark>جا</mark>تا ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم کا <mark>جا</mark>دو کچھ ایسا کار گر ہوا ہے کہ ہر شخص بلا سوچے سمجھے کہ اس کے بچے کو کس قسم کی تعلیم مفید اور کار آمد ہو سکتی ہے اپنے لڑکوں کو سکول اور کالج میں بھیجتا ہے جہاں حفاظتِ دین کے اسباب بہم نہیں پہنچا ئے <mark>جا</mark>تے۔وہاں قسم قسم کی فصیح و بلیغ تقریروں والے اوربڑی بڑی لمبی داڑھیوں والے عجیب غریب باتیں سناتے ہیں اوریورپین اقوام کی ترقیوں اور صنّاعیوں پرلیکچر دے دے <mark>کر</mark> نوجوانوں کو اس طرف مائل <mark>کر</mark>تے ہیں یہاں تک کہ سیدھے سادھے نوجوان جو اپنی مذہبی تعلیم سے بالکل کورے اور صاف ہوتے ہیں مذہب کو ایک آزادی کی مانع چیز سمجھنے لگتے ہیں اور انسانی ترقیوں کا مانع اسے قرار دیتے ہیں۔باتوں ہی باتوں میں سمجھا دئیے <mark>جا</mark>تے ہیں کہ اگر وہ اعتراض <mark>علم</mark>اء کے سامنے کئے <mark>جا</mark>تے ہیں تو ان پرکفر کے فتوے جڑے <mark>جا</mark>تے ہیں۔ان اعتراضوں کا جو بُرا اثر پڑتا ہے اس کے متعلق میں ایک قصہ بیان <mark>کر</mark>تا ہوں مگر یاد رکھو کہ میں قصہ گو نہیں بلکہ درد دل کیساتھ تمھیں اسلام کی حالت دکھانی چاہتا ہوں میری غرض کسی پر نکتہ چینی <mark>کر</mark>نا نہیں ہے اور نہ ہنسانا مقصود ہے بلکہ اصلیت کا بیان <mark>کر</mark>نا مدِّ نظر ہے۔میں ایک بار ریل میں سفر <mark>کر</mark> رہا تھا جس کمرہ میں مَیں بیٹھا ہوا تھا اسی کمرہ میں ایک اور بڈھا شخص بیٹھا ہو اتھا۔ایک اور شخص جو مجھے مولوی صاحب کہہ <mark>کر</mark> مخاطب <mark>کر</mark>نے لگا تو اس دوسرے شخص کو سخت بُرا معلوم ہوا اور اس نے کھڑکی سے باہر سر نکال لیا۔وہ شخص جو مجھ سے مخاطب تھا اس کے بعض سوالوں کا جواب جب میں نے دیا تو اس بڈھے نے بھی سر اندر <mark>کر</mark> لیا اور بڑے غور سے میری باتوں کو سننے لگا اور وہ باتیں مؤثر معلوم ہوئیں۔پھر خود ہی اس نے بیان کیاکہ کیا آپ <mark>جا</mark>نتے ہیں کہ میں نے کیوں سر باہر <mark>کر</mark> لیا تھا۔میں نے کہا نہیں اس نے بیان کیاکہ مجھے مولویوں کے نام سے بڑی نفرت ہے۔اس شخص نے جب آپ کو مولوی <mark>کر</mark> کے پکارا تو مجھے بہت بُرا معلوم ہوا لیکن جب