خطابات نور — Page 174
جو خرابیاں اکثر اوقات پیدا ہوتی ہیں اور آئے دن اس قسم کی خبریں سننے میں آتی ہیں کہ فلاں گھر میں ایک مشنری عورت آتی تھی اور وہاں سے فلاں عورت کو نکال لے گئی اس کا پتا نہیں وغیرہ۔پھر اس سے ذرا اور آگے بڑھوولایت میں جو لوگ پڑھنے کے واسطے جاتے ہیں اور کوئی ان کے حال کا پرساں اور نگراں نہیں ہوتا پھر جو کچھ وہاں وہ کر گزریں تھوڑا ہے۔مذہب کی رسمی قیود بھی بمبئی تک ہی سمجھی جاتی ہیں اس کے بعد پھر کوئی مذہب نہیں الاماشاء اللہ۔ایک معزز ہندو نے نواب محمد علی خاں صاحب کے مکان پر بیان کیا کہ یہ مت پوچھو کہ ولایت میں کیا کیا کھایا بلکہ یہ پوچھئے کہ کیا نہیں کھایا۔غرض حبائل الشیطان کی وہ حالت، جمّاع الاثم کا وہ زور شور، سلطنت کا رعب وسطوت وجبروت الگ یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے گو ویسے کچھ اور ہی ظاہر کر دیا گیا ہو کہ مقدمات میں تبدیلیٔ مذہب نجات کا موجب ہو گئی اور مجسٹریٹ نے لکھ دیا کہ عیسائی مذہب کی وجہ سے خلاف گواہی دی گئی یا مقدمہ بنایا گیا۔ایک آدمی بجائے خود ذلیل اور کس مپرس ہو تا ہے لیکن مشنریوں کے ہاں جاکر اسے روزگار مل جاتا ہے یا کسی کو ممانعت روز گار ہوئی مشنریوں نے اسے پادری بنا دیا اس قسم کے واقعات موجود ہیں یہ خیالی یا فرضی باتیں نہیں ہیں۔مشنریوں کی بعض رپورٹوں تک سے یہ واقعات کھل جاتے ہیں اگر ان پر زیادہ غور کی جاوے۔یہ تو ان لوگوں کی آزادی کے اسباب ہیں جنہوں نے مذہب کی پروا نہیں کی۔اس کے علاوہ مصنّفوں اور ماسٹروں کا اثر پڑھنے والوں پر اندر ہی اندر ایک مخفی رنگ میں ہوتا چلا جاتا ہے۔تصنیف کا ایسا خوفناک اثر ہوتا ہے کہ دوسروں کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور شاید پڑھنے والا بھی اسے جلدی محسوس نہ کر سکے مگر آخر کار وہ ایسا متاثر ہوتا ہے کہ خود اس کو جرات ہوتی ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب نے بھی اس اثر کے متعلق لکھا ہے اور میں چونکہ بہت کتابوں کے پڑھنے والا ہوں میں نے تجربہ کیا ہے اور علاوہ بریں علم طب کے ذریعہ مجھے اس راز کے سمجھنے میں بہت بڑی مدد ملی ہے۔میر حسن کی مثنوی پڑھ کر ہزاروں ہزار لڑکے اور لڑکیاں زانی اور بدکار ہوگئی ہیں اور یہ ایسی بیّن اور ظاہر بات ہے کہ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا جبکہ تصانیف کا اثر طبائع پر پڑتا ہے اور ضعیف