خطابات نور — Page 173
تھیلے کی سی بات کر رکھی ہے جسے وہ چاہتا ہے اس میں سے نکالتا ہے ویسے ہی یہ بھی جو روایت اپنے مطلب کی چاہتے ہیں نکال کر پیش کر دیتے ہیں اور یہ اختلاف اس شدت سے پھیلا ہوا ہے کہ اس کا بیان کرنا بھی آسا ن نہیں۔صداقت اس طرح پر چھپ جاتی ہے جب تک مامور من اللہ خدا تعالیٰ سے لطیف فہم لے کر نہیں آتا۔صداقت بیج کی طرح رہتی ہے جیسے جب بارش آسمان سے آتی ہے تو خواہ ساری دنیا زور لگائے کہ بیج نشوونما نہ پائے وہ اگنے سے نہیں رہتا اسی طرح پر جب مامور من اللہ آتا ہے تو خواہ کوئی کچھ ہی کرے وہ صداقت کو ضرور نکال لیتا ہے اس کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ جو کام وہ کرتا ہے عقل صحیح اور نقل صریح اور تائیداتِ سماوی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔اس وقت آزادی کی راہیں کھلی ہوئی ہیں اسلام پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں کہ پہلے کسی نے کبھی سنے بھی نہ تھے۔میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی اعتراض کرتے تھے۔میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے پہلے کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا۔اسلامی سلطنت کی سطوت وجبروت کے مقابلہ میں کون اعتراض کر سکتا تھا یہ سب کچھ اسی صدی کا کرشمہ ہے اور اسی انڈیا میں اس کو ترقی ہے جو چاہے کوئی کہہ دے اخبارات و رسالہ جات میں زور شور سے مخالفت کی جاتی اور اعتراض کئے جاتے ہیں کوئی نہیں روکتا۔فسق و فجور نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ شراب جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمّاع الاثم کہا ہے اسی پر قیاس کر لو کہ کیا حالت ہے۔لنڈن ایک شہر میں اس کی یہ حالت ہے کہ صرف شراب فروشوں کی دوکانوں کو الگ ایک لائن میں رکھا جاوے تو پچھتر میل سے زیادہ تک جاتی ہیں اور کل کارخانے اتوار کو بند رہیں مگر شراب کی دوکانیں اتوار کو بھی کھلنی ضروری ہیں اس سے اندازہ اور قیاس کر لو دوسری حالتوں کا۔عورتوں کی بابت آیا ہے کہ وہ حبائل الشیطان ہیں یعنی عورتیں شیطان کی رسیاں ہیں حقیقت میں جس قدر ابتلا ان عورتو ں کے ذریعہ سے آتے ہیں اور جس طرح شیطان ان رسیوں کے ذریعہ سے اپنا کام کرتا ہے وہ کوئی ایسی بات نہیں کہ کسی سے پوشیدہ ہو۔مشنری عورتوں اور مشنریوں سے