خطابات نور — Page 155
کوئی ایسی بات نہ ہو کہ <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>نے کی روح پیدا ہو <mark>جا</mark>وے کتاب کا پڑھنا بھی ضائع ہو<mark>جا</mark>تا ہے جبکہ کوئی سننے کے لئے تیار نہیں۔جب تک پڑھنے والا خود نہیں سمجھتا دوسروں کو سمجھا نہیں سکتا اس لئے نہایت ضروری ہے کہ پہلے تعلیماتِ صحیحہ آ<mark>جا</mark>ویں پھر ان کو پہنچایا <mark>جا</mark>وے اور سمجھا یا <mark>جا</mark>وے کہ کیسے <mark>عمل</mark> درآمد ہوتا ہے یا خود <mark>کر</mark> کے دکھایا <mark>جا</mark>وے۔یہ ضروری مرحلہ ہے غور <mark>کر</mark> کے دیکھو کہ کیا یہود کے سامنے ایک بڑا بھاری انبار کتاب کا نہ تھا؟ کیامجوس کے پاس کتابیں نہ تھیں؟ کیا عیسائی اپنی بغل میں کتابِ مقدس مارے نہ پھرتے تھے؟ اور کیا ان میں عمدہ باتیں بالکل نہ تھیں؟ تھیں اور ضرور تھیں مگر ان میں اگر کچھ نہ تھا تو صرف یہی نہ تھا کہ ان پر <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>ا دینے والا کوئی نہ تھا جب تک ایک روح اس قسم کی نہ آوے جو انسان کو مزکّیبناوے۔اس وقت تک انسان ان تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔۲؎ میں بیرونی مذاہب کو چھوڑ <mark>کر</mark> اندرونی فرقوں کی طرف توجہ <mark>کر</mark>تا ہوں کیا یہی قرآن شریف جو ہمارے سرور عالم سیّدِ وُلْدِ آدم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم لے <mark>کر</mark> آئے تھے اس وقت سنیوں ، شیعوں ، خوارج اور اور بہت سے فرقوں کے پاس نہیں ہے ؟ کیا واعظ، امام، قاری اور دوسرے لوگ ان میں نہیں ہیں ؟ مگر سب دیکھیں اور اپنی اپنی جگہ غور <mark>کر</mark>یں کہ کیا اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ؟ یہ سچی بات ہے کہ جب تک کوئی مزکّینہ ہو تو تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے فرمایا خیر القرون قرنی (تفسیرکبیررازی سورۃ التوبہ آیت ۱۰۰)یہ صدی جس میں میں ہوں بڑی خیر وبرکت کی بھری ہوئی ہے اور حقیقت میں وہ صدی بڑی ہی بابرکت تھی کیونکہ حضور <mark>علیہ</mark> الصلوٰۃ والسلام اس میں موجود تھے اور آپ کی وساطت سے لوگ تزکیہ سے متمتع ہوتے تھے۔پھر آپ نے فرمایا کہ دوسری صدی بھی اس پہلی کی طرح خیر وبرکت والی ہو گی اور پھر تیسری پر بھی اس پہلی کا اثر پڑے گا مگر اس کے بعد جھوٹ پھیل <mark>جا</mark>ئے گا۔اب غور طلب یہ امر ہے کہ کیا قرآن شریف اس چوتھی صدی میں نہ رہا تھا جس میں جھوٹ کے پھیلنے کی آپ نے پیشگوئی فرمائی کیا تعامل اور حدیث ان میں نہ تھی ؟ پھر وہ کیا بات ہے جو یفشوا الکذب(سنن ترمذی کتاب الفتن باب لزوم الجماعۃ حدیث نمبر۲۱۶۵) کہا۔بات اصل یہی ہے کہ وہ مزکّیان میں نہ رہا۔مزکّی کو اٹھے ہوئے تین سو سال گزر گئے بہت سے نادانوں نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ ہم