خطابات نور — Page 11
(المائدۃ :۲)۔منشائے الٰہی یونہی تھا سو پورا ہوا۔ابوبکر کوئی ملکی اجتماع قوم وغیرہ نہ رکھتے تھے لیکن بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ وعدہ کیا تھا اس کو حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت سے ثابت کر دکھایا۔ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مرتے ہی یوشع بن نون کو خلیفہ کیا۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہوتے ہی بلا فصل ابوبکر خلیفہ ہوئے اور ان کے بعد معاً حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی وغیر ہم رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین اور اسی طرح پر لگاتار یہ سلسلہ قیامت تک چلا جائے گا۔میں پھر ایک بار یہ امر آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت ایک جامع کمالات تھی۔غور تو کرو کہ ایک طرف عرب کے جنگجو اور لڑائی پر ادھار کھائے ہوئے وحشیوں سے مقابلہ دوسری طرف لکھے پڑھے یہودیوں سے سامنا۔ایک طرف جاہل دوسری طرف عالم۔ایک طرف جاہلوں میں وحدت ارادی کی روح پھونکنا اور دوسری طرف ان کو خدا تک پہنچانا۔پھر ان تمام امور میں کسی مشیر اور صلاح کار کی ضرورت نہیں۔علاوہ ازیں کس قدر اہم امور آپ کے درپیش تھے۔آپ ہی نمونہ بن کر دکھانا۔آپ ہی خط وکتابت کرنی قضا بھی آپ ہی کرنی۔فوجوں کے کمانڈنگ آفیسر بھی بذات خود۔خطرات آویں تو سینہ سپر ہونا۔پھر ایک نہیں دو نہیں نو بیویوں کا خاوند ہونا۔الغرض کیا یہ کسی معمولی حیثیت کے آدمی کا کام ہے؟ کہ اس قدر کام کرے اور سب کے سب باحسن وجوہ پورے ہوں کہتے ہیں ایک بار مدینہ طیبہ میں شور اٹھا۔صحابہ پہنچے تو دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام واپس آرہے ہیں اور فرمایا کہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔گھر کے نظام، بیویوں سے سلوک اور پھر ایسا اطمینان کہ جاہلیت کے قصے بھی ہو رہے ہیں۔الغرض اللہ تعالیٰ نے آپ کے ان کمالات اور انوار کو حسب استعداد مخلوق میں پھیلا دیا۔کچھ لوگ احادیث کی حفاظت کے لئے آپ کے سینہ کی طرح مامور ہو گئے۔کچھ فقہاء بن گئے۔کچھ منتظم ملک اور پھر بعد زمانہ کے جب یہ جامعیت اٹھ گئی تو کچھ متکلم، کچھ قراء، کچھ مفسر، کچھ حواشی احادیث لکھنے والے پیدا ہو گئے اور بعض بادشاہ ہو گئے۔ایک وقت میرے قلب پر کچھ تغیر تھا کہ حضرت علی مرتضی سے خدا نے کیا کام لیا۔آخر کار مجھے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اندرونی فتوحات