خطابات نور — Page 116
متصوفین اور کمزور دل کی مخلوق ایسی ہے کہ جن کا اس پر عمل ہے۔بامسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام۔یہ لوگ جیسا کہ موقع دیکھتے ہیں ویسا ہی اپنے آپ کو بنالیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا وہ اخلاص اور حقیقت چاہتا ہے۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہوگی کچھ نہیں۔بہت سے لوگ اس وقت ایسے بھی ہیں جو ہم سے ملتے ہیں تو ہماری باتوں کو سنتے اور پسند کرتے ہیں لیکن جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نہیں مل جاتے تو کہتے ہیں کہ ہم شامل تو ہوجائیں مگر حکاّم کی نظروں میں کھٹکنے لگتے ہیں اور مالی مشکلات کے لئے بلایا جاتا ہے اور یوں تو ہم آپ کے ہی ساتھ ہیں ظاہر کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔لیکن جب اپنے مدبّروں سے ملتے ہیں تو پھر مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو آپ ہی کی رائے کے تابع ہیں اور آپ کے ہی ساتھ ہیں ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں۔اس لئے تم جو حضرت اقدس کے ساتھ ہو اپنے دل کو ٹٹولو اور اپنے اعمال اور افعال پر نظر کرو کہ کیا تم میں وہ بات پیدا ہوگئی ہے کہ تم اس کے لئے اپنی قوم برادری کو چھوڑنے کے لئے تیار رہو۔کیا تم ان مشکلات کو خوشی سے برداشت کرسکتے ہو جو اس کی خاطر تمہیں پیش آئیں؟ اگر تمہارا دل اس کے لئے قوت پاتا ہے اور وہ بڑی خوشی کے ساتھ آمادہ ہے تو سمجھو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے لیکن اگر مشکلات کی برداشت نہیں قوم اور برادری کا ڈر تمہیں دھمکاتا ہے تو پھر دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں استقلال اور قوت عطا کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا اور اس کے فضل حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم دعا میں لگے رہو۔اپنے اعمال میں ایک تبدیلی کرو۔۸؎ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عجیب در عجیب تقریروں یا تحریروں سے کامیاب ہوسکتے ہیں اور اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ عارضی طور پر بظاہر بعض لوگوں کو کامیابی نظر بھی آتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کامیابی کوئی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ ناکامی اور نامرادی ہی ہوتی ہے کیونکہ اس کا انجام خطرناک طور پر برا ثابت ہوتا ہے۔کامیابی کا اصلی راز اور گُر تقویٰ اللہ ہی ہے کیونکہ اس کے ساتھ روح القدس کی تائید ہوتی ہے جس سے وہ کلام الٰہی کے اسرار اور نکات کو سمجھ سکتا ہے اور اس کی تقریر اور تحریر میں اللہ تعالیٰ ایک نور اور برکت رکھ دیتا ہے۔اس میں ایک اثر ہوتا ہے جو سننے اور پڑھنے والوں کے