خطابات نور — Page 108
یہ راستباز ہے اور خدا تعالیٰ اس کی تائید <mark>کر</mark>رہا ہے اور وہ کاذبوں کی تائید نہیں کیا <mark>کر</mark>تا۔غرض یہ وہ زمانہ ہے کہ ہم پھر آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کے تازہ کمالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔یہ بات بالکل سچی ہے کہ اگر یہ شخص نہ آتا توآنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کے کمالات اور معجزات ایک افسانہ سے بڑھ <mark>کر</mark> نہ ہوتے جو اب واقعات اور مشاہدہ کے رنگ میں نظر آرہے ہیں اور یہ سب کچھ اسی کے طفیل سے ہے جس کے بلانے سے تم آج یہاں جمع ہو۔پھر آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم ہی کے وقت میں صحابہ محض اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کے اظہار کے لئے دور دراز کے سفر <mark>کر</mark>تے تھے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل <mark>کر</mark>تے تھے۔وہی رنگ یہاں دکھایا <mark>جا</mark>تا ہے کہ ایک جماعت کو اس نے تیار کیا ہے جو جنگلوں کو طے <mark>کر</mark>تی ہوئی اور سمندروں کو چیرتی ہوئی دور و دراز بلاد میں <mark>جا</mark>ئے گی اور اس کی غرض کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار، اس کی گم شدہ توحید کو پھر دنیا پر ظاہر <mark>کر</mark>نا۔کیسی پاک اور مبارک غرض ہے۔آج سفروں کے لئے ہر قسم کی آسائش اور سہولت کے بہم پہنچنے کی وجہ سے لوگ دور و دراز ولایتوں کے سفر <mark>کر</mark>تے ہیں اور آئے دن ایسے مسافر روانہ ہوتے ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں ان کی غرض کیا ہوتی ہے؟ دنیا اور صرف دنیا۔کوئی ولایت کو <mark>جا</mark>تا ہے ماں باپ اور احباب اور وطن سے جدا ہوتا ہے اس لئے کہ وہاں <mark>جا</mark>ئے بیرسٹری کا یا کوئی اور امتحان پاس <mark>کر</mark>ے اور دنیا کمائے۔پھر وہاں سے وہ کیا لاتا ہے۔<mark>علم</mark>ی یا <mark>عمل</mark>ی طور پر خدا کے نہ ہونے کا اقرار یہ تو روحانی ترقی ہوتی ہے اور مارل اینڈ سوشل اصلاح جو وہ <mark>کر</mark>کے آتا ہے وہ تم میں سے اکثروں کو ایسے لوگوں کے دیکھنے سے معلوم ہوئی ہوگی لیکن آج یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جماعت سفر <mark>کر</mark>تی ہے لیکن اس سفر کی غرض خدا اور صرف خدا ہے۔ان لوگوں کی حالت پر جب میں نظر <mark>کر</mark>تا ہوں تو میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ <mark>جا</mark>تی ہے کیونکہ یہ پاک اغراض اور مقاصد لے <mark>کر</mark><mark>جا</mark>تے ہیں۔یہ اپنے احباب اور عزیزوں سے جدا ہوں گے۔جنگل اور بیابان کاٹتے ہوئے <mark>جا</mark>ویں گے اور ایسے ایسے مقامات پر یہ پہنچیں گے جہاں سے ہمیں ان کی کچھ بھی خبر نہ ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا گزر رہی ہے اگر وہ کسی مصیبت اور مشکلات میں مبتلا ہو<mark>جا</mark>ویں جو سفروں میں ممکن ہے (اور ہماری دعا ہے کہ وہ ان مصائب اور مشکلات سے محفوظ رہیں آمین) تو تم میں سے کون ہوگا جو ان کی اس وقت مدد <mark>کر</mark>سکے گا۔کوئی بھی نہیں کیونکہ وہ تم سے اتنے دور ہوں گے کہ اول تو اطلاع آنی مشکل اور