خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 660

خطابات نور — Page 108

یہ راستباز ہے اور خدا تعالیٰ اس کی تائید کررہا ہے اور وہ کاذبوں کی تائید نہیں کیا کرتا۔غرض یہ وہ زمانہ ہے کہ ہم پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تازہ کمالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔یہ بات بالکل سچی ہے کہ اگر یہ شخص نہ آتا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور معجزات ایک افسانہ سے بڑھ کر نہ ہوتے جو اب واقعات اور مشاہدہ کے رنگ میں نظر آرہے ہیں اور یہ سب کچھ اسی کے طفیل سے ہے جس کے بلانے سے تم آج یہاں جمع ہو۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے وقت میں صحابہ محض اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کے اظہار کے لئے دور دراز کے سفر کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتے تھے۔وہی رنگ یہاں دکھایا جاتا ہے کہ ایک جماعت کو اس نے تیار کیا ہے جو جنگلوں کو طے کرتی ہوئی اور سمندروں کو چیرتی ہوئی دور و دراز بلاد میں جائے گی اور اس کی غرض کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار، اس کی گم شدہ توحید کو پھر دنیا پر ظاہر کرنا۔کیسی پاک اور مبارک غرض ہے۔آج سفروں کے لئے ہر قسم کی آسائش اور سہولت کے بہم پہنچنے کی وجہ سے لوگ دور و دراز ولایتوں کے سفر کرتے ہیں اور آئے دن ایسے مسافر روانہ ہوتے ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں ان کی غرض کیا ہوتی ہے؟ دنیا اور صرف دنیا۔کوئی ولایت کو جاتا ہے ماں باپ اور احباب اور وطن سے جدا ہوتا ہے اس لئے کہ وہاں جائے بیرسٹری کا یا کوئی اور امتحان پاس کرے اور دنیا کمائے۔پھر وہاں سے وہ کیا لاتا ہے۔علمی یا عملی طور پر خدا کے نہ ہونے کا اقرار یہ تو روحانی ترقی ہوتی ہے اور مارل اینڈ سوشل اصلاح جو وہ کرکے آتا ہے وہ تم میں سے اکثروں کو ایسے لوگوں کے دیکھنے سے معلوم ہوئی ہوگی لیکن آج یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جماعت سفر کرتی ہے لیکن اس سفر کی غرض خدا اور صرف خدا ہے۔ان لوگوں کی حالت پر جب میں نظر کرتا ہوں تو میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ پاک اغراض اور مقاصد لے کرجاتے ہیں۔یہ اپنے احباب اور عزیزوں سے جدا ہوں گے۔جنگل اور بیابان کاٹتے ہوئے جاویں گے اور ایسے ایسے مقامات پر یہ پہنچیں گے جہاں سے ہمیں ان کی کچھ بھی خبر نہ ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا گزر رہی ہے اگر وہ کسی مصیبت اور مشکلات میں مبتلا ہوجاویں جو سفروں میں ممکن ہے (اور ہماری دعا ہے کہ وہ ان مصائب اور مشکلات سے محفوظ رہیں آمین) تو تم میں سے کون ہوگا جو ان کی اس وقت مدد کرسکے گا۔کوئی بھی نہیں کیونکہ وہ تم سے اتنے دور ہوں گے کہ اول تو اطلاع آنی مشکل اور