خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 103 of 660

خطابات نور — Page 103

فہرستیں کھولی تھیں؟ نہیں کعبہ کی بنا کے لئے خدا تعالیٰ کے دو برگزیدہ بندے باپ اور بیٹا خود ہی مستری معمار اور مزدور تھے۔وہ سماں کیسا عجیب ہوگا؟ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت اسماعیل اس مسجد کو بنارہے تھے۔جس اخلاص اور غرض کے لئے انہوں نے بنیادی پتھر رکھا ہوگا۔اس کا ثبوت اس قبولیت اور رجوع سے ملتا ہے جو اس مسجد کو حاصل ہوئی۔ایسی جگہ وہ عظیم الشان انسان پیدا ہوا جو کل دنیا کے لئے رحمۃ للعالمین ہوکر آیا۔جس کی رسالت کا دامن قیامت تک دراز اور جو خدا تعالیٰ کی کامل شریعت کا لانے والا ٹھہرا اور وہ وادی غیر ذی زرع آخر امّ القری کہلائی اور دنیا کی ناف اس کو کہا گیا ہے۔اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک انسان تاریکی کے اندر ہوتا ہے اور پیٹ میں ہوتا ہے ساری غذا اس کو ناف ہی کے ذریعہ سے پہنچتی ہے اور اس کی پرورش ہوتی ہے اور پھرآخر وہ ایک جدید راستہ سے پیدا ہوتا ہے اور ایک عظیم الشان قضاء کے نیچے آتا ہے۔اسی طرح پر جب دنیا ایک خطرناک ظلمت میں مبتلا تھی۔اس وقت توحید کا دودھ مکہ کی ہی ناف سے نکلا ہے اور جب تک انسان اس دودھ سے یہ پرورش نہیں پاتا وہ جنم لینے کے قابل نہیں ہوسکتا۔غرض وہ عظیم الشان مسجد تھی اس کا بنانا کوئی مشکل کام اس وقت نہیں سمجھا گیا۔باپ بیٹے نے مل کر اس کو بنالیا اور وہ دوسری مسجد جو اس کے لئے فخر بنی یعنی مسجد نبوی وہ بھی ایک معنوں سے باپ اور بیٹوں نے بنالی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو امہات المؤمنین قرار دیتا ہے۔اس حیثیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باپ بنے اور صحابہ آپ کے فرزند تھے۔اس مسجد کو صحابہ کے ساتھ مل کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنالیا اور ساری دنیا اس کی متوالی ہوگئی۔اس زمانہ میں بھی میں اس قسم کی مسجد کا ایک نمونہ دکھاتا ہوں۔ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی مسجد بنائی ہے۔زمین نہیں ملی تو اوپر چھت کے ہی بنالی ہے۔بات کیا ہے جو چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے ہوتی ہے وہ بابرکت ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو کچھ نہیں بنتا۔تم خیال کرسکتے ہو کہ لاہور امرت سر میں کئی بڑی بڑی مسجدیں ہیں۔لاہور میں شاہی مسجد اور وزیرخان کی مسجد موجود ہے کیا وہ مسجدیں ایسا متوالا اور پروانہ بناسکتی ہیں جو مکہ اور مدینہ کی مسجد بنا سکتی ہے یا ہماری چھوٹی سی مسجد۔