خطابات نور — Page 99
تاکید اور اسی سورہ شریف میں عبادت کے طریق سکھائے ہیں۔پھر آخر میں یہ دعا سکھائی ہے۔ (البقرۃ:۲۸۷) یہ نہایت مختصر سا خلاصہ ہے سورہ فاتحہ کا جو سورہ بقرہ میں موجود ہے۔اس کی تفصیل اور تفسیر کے لئے تو بہت وقت چاہئے مگر میں نہایت مختصر طریق پر صرف پہلے ہی رکوع پر کچھ سنائوں گا۔چنانچہ ابتدا میں مولیٰ کریم فرماتا ہے۔ (البقرۃ :۲،۳) میں اللہ بہت جاننے والا ہوں اس کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ملتا ہے۔جس پر چل کر انسان روحانی آرام اور سچے عقائد اور جسمانی راحتیں حاصل کرسکتا ہے۔میں نے پہلے کہا ہے کہ قرآن شریف کا نام اللہ تعالیٰ نے شفا رکھا ہے اور اس کے ماننے والوں کا نام متقی رکھا ہے اور پھر فرمایا ہے۔(المنٰفقون :۹) یعنی جو لوگ ماننے والے ہوتے ہیں وہ معزز ہوتے ہیں۔ماننے والے سے مراد یہ ہے جو اس پر عملدر آمد کرتے ہیں۔یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔تاریخ اور واقعات صحیحہ اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ جس قوم نے قرآن کو اپنا دستورالعمل بنایا وہ دنیا میں معزز و مقتدر بنائی گئی۔کون ہے جو اس بات سے ناواقف ہے کہ عربوں کی قوم تاریخ دنیا میں اپنا کوئی مقام و مرتبہ رکھتی تھی وہ بالکل دنیا سے الگ تھلگ قوم تھی لیکن جب وہ قرآن کی حکومت کے نیچے آئی وہ کل دنیا کی فاتح کہلائی۔علوم کے دروازے ان پر کھولے گئے۔پھر ایسی زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے اس صداقت سے انکار کرنا سراسر غلطی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آج کل مسلمانوں کے تنزّل و ادبار کے اسباب پر بڑی بحثیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو قوم کے ریفارمر یا لیڈر کہلاتے ہیں۔اس مضمون پر بڑی طبع آزمائیاں کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، آرٹیکل لکھتے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ اس نکتہ سے دور ہیں۔ان کے نزدیک مسلمانوں کے ادبار کا باعث یورپ کے علوم کا حاصل نہ کرنا ہے اور ترقی کا ذریعہ انہیں علوم کا حاصل کرنا ہوسکتا ہے۔حالانکہ قرآن شریف یہ کہتا ہے کہ قرآن پر ایمان لانے والے اور عملدرآمد کرنے والے معزز ہوسکتے ہیں۔بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ جب انسان کامل طور پر قرآن کی حکومت کے نیچے آجاتا ہے تو وہ حکومت اس کو خود حکمران بنادیتی ہے اور دوسروں پر حکومت کرنے کی قابلیت عطا کرتی ہے۔جیسا کہ (البقرۃ :۶) سے پایا جاتا ہے