خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 87 of 660

خطابات نور — Page 87

کتاب ایسی موجود نہیں ہے۔اگر ہے تو وہ ایک ہی کتاب ہے وہ کونسی کتاب!  (البقرۃ :۳)۔کیا پیارا نام ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی مرتبہ پڑھو۔جس قدر پڑھو اور جتنا اس پرغور کرو اسی قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوے گی۔طبیعت اکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اور وقت اسی پر َصرف کرو۔عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان ،یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے افراد بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم سے ان کو لذت نہیں آئی۔مگر وہ یہ کیوں کہتے ہیں؟ شامت اعمال کی وجہ سے، بدکاریوں اور اعتدا کی سبب سے۔قرآن شریف میں اسے ہی لذت نہیں آسکتی جو ایک گندی زیست رکھتا ہے۔چونکہ وہ بیمار دل ہوتا ہے اس لئے جیسے ایک مریض بعض اوقات اپنا ذائقہ تلخ ہونے کی وجہ سے مصری کو بھی تلخ بتاتا ہے۔وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے اس سے لذت نہیں آتی! اس کے کہنے پر کیا انحصار ہے۔خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کردیا ہے۔(البقرۃ :۱۱)اور پھر صاف صاف ارشاد کردیا (الواقعۃ :۸۰) جس جس قدر انسان پاکیزگی، تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرے گا۔اسی اسی قدر قرآن شریف کے ساتھ محبت اس کے مطالعہ اور تلاوت کا جوش اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اور قوت اسے ملے گی۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کے احکام اور حدود کی خلاف ورزی میں دلیری کرتا ہے اور گندی صحبتوں اور ناپاک مجلسوں اور ہنسی ٹھٹھے کے مشغلوں سے الگ نہیں ہوتا وہ اگر چاہے کہ اس کو قرآن شریف پر غور و فکر کرنے کی عادت ہو ،تدبّر کے ساتھ اس کے مضامین عالیہ سے حظ حاصل کرے۔ایں خیال است و محال است و جنون ایسے لوگوں کو قرآن کریم سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔میں ایک چھوٹی سی مثال تمہیں چشم دید بتاتا ہوں۔ایک شخص قرآن شریف کا حافظ تھا۔اسے قرآن شریف سے بڑی محبت اور عشق تھا۔وہ اتفاقاً ایک لڑکے پر عاشق ہوگیا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن شریف سے جو لذّت اس کو آتی تھی وہ جاتی رہی۔تھا سعید الفطرت اس نے اس کمی کو محسوس کیا اور دعائیں کرنے لگا۔عرصہ دراز تک وہ دعائوں میں لگا رہا۔آخر سالہا سال کے بعد اس کی دعائوں نے اپنا نتیجہ پیدا کیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو تنبیہ کی اور