خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 660

خطابات نور — Page 76

صحابہ کی خصوصیت: میں نے صحابہ کی سیرت کو خوب غور سے پڑھا ہے اور مجھییاد نہیں کسی اولوالعزم صحابی کی پاک زندگی میں یہ پایا جاتا ہو کہ اس نے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور دنیوی اغراض کے لئے یہ عرض کی ہو کہ حضور دعا کریں مجھے فلاں سلطنت مل جاوے یا میرے بیٹا ہوجاوے جو میری جائیداد کا وارث ہو۔اس سے صحابہ کی عظمت اور ان کی پاک باطنی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔مگر دیکھو انہوں نے گو دنیا کے لئے کوئی دعا نہیں کرائی لیکن کیا وہ دنیا سے محروم رہے؟ دنیا خود ان کے پاس آگئی۔وہ بادشاہ بنادئیے گئے اور قیصروکسریٰ کے خزانے ان کے پائوں میں ڈالے گئے۔اب کوئی مقابلہ کرے دوسرے بادشاہوں کا جو دنیا میں ہوئے ہیں لیکن کیا وہ صحابہ جیسے بادشاہ ہوئے۔پس تم بھی دنیا کے لئے دعائیں نہ کرو اور نہ منگوائو بلکہ دین کی عظمت اور اس کے اعلاء کے لئے خود بھی کرو اور امام سے بھی کرائو۔یہ خدا تعالیٰ کے لئے ہوں گی ان کی اجابت یقینی ہے۔پھر اس کے ثمرات بھی لازم طور پر آئیں گے۔دعاوںسے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے ان کے نتائج عرصہ دراز کے بعد بھی ظہورپذیر ہوتے ہیںلیکن مومن کبھی تھکتا نہیں۔قرآن شریف میںدعاوںکے نمونے موجود ہیںان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے وہ اپنی اولاد کے لیے کیا خواہش کرتے ہیں۔(البقرۃ :۱۳۰) اس دعا پر غور کرو۔حضرت ابراہیم کی دعا روحانی خواہشوں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلقات بنی نوع کی بھلائی کے جذبات کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے۔وہ دعا مانگ سکتے تھے کہ میری اولاد کو بادشاہ بنادے مگر وہ کیا کہتے ہیں۔اے ہمارے ربّ میری اولاد میں انہیں میںکا ایک رسول مبعوث فرما۔اس کا کام کیا ہو وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے اور اس قدر قوت قدسی رکھتا ہو کہ وہ ان کو پاک و مطہر کرے اور ان کو کتاب اللہ کے حقائق و حِکَم سے آگاہ کرے اسرار شریعت ان پر کھولے۔یہ ایسی عظیم الشان دعا ہے کہ کوئی دعا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور ابتدا ئے آفرینش سے جن لوگوں کے حالات زندگی ہمیں مل سکتے ہیں کسی کی زندگی میں یہ دعا پائی نہیں جاتی۔حضرت ابراہیم کی عالی ہمتی کا اس سے خوب پتہ ملتا ہے۔پھر اس دعا کا نتیجہ کیا ہوا اور کب ہوا۔عرصہ دراز کے بعد