خطابات نور — Page 553
کچھ دین اسلام نے ہم کو سکھایا ہے وہ ایساہے کہ ہمارے مقابلہ میں دوسرا ٹھہر ہی نہیں سکتا۔نیوگ کی باریکی اور اس کی ضرورت کہاں مجلسوں میں بیان کی جاسکتی ہے۔عیسائیوں کے خدا کی یہ حالت ہے کہ یہودیوں نے پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا اور خدا کی خدائی غارت کر دی۔پھر وہ مجھ سے نبی کریم ؐ کے معجزات کے متعلق کچھ کہنے لگا میں نے معجزات آنکھوں کے سامنے دکھلا دیئے کیا ابھی ان کو یہ کتاب میری کافی نہیں جو ان کو کھل کر سنائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے میرا ایک بچہ ہے اس کو ایک آریہ نے پکڑا کہ مباحثہ کر لے اس نے کہا کر لے۔میرے بچہ کے ہاتھ میں کتاب اللہ تھی کہا یہ ہمای کتاب ہے اگر عربی نہیں آتی تو نیچے اردو ترجمہ لکھا ہے۔تمہارے وید تو لحافوں میں چھپے ہوئے ہیں وہ کبھی باہر نکلے ہی نہیں۔پھر اس آریہ سے کہااچھا تو یہ بتا کہ تونے وید کو پڑھا ؟ اس نے کہا نہیں۔کہا ان کو سمجھا۔کہا نہیں۔یہ تو کافی کتاب ہے چھپی ہوئی نہیں۔جہان کے سامنے پڑھی جاتی ہے ۔میں ساری رحمتیں دینے کو تیارہوں میری بات کو مان لو بڑے سے بڑا بنانے کو تیار ہوں ایمان دار بنو اور میرے خط کو پڑھو۔اب دیکھ لو بڑا حصہ زمینداروں کا ہے وہ قرآن کو کتنا پڑھتے ہیں۔بڑا حصہ تاجروں اور پیشہ والوں کا ہے وہ کتنا قرآن پڑھتے ہیں۔پھر بڑا حصہ نو کر چاکرلوگ ہیںنو بجے تک سوئے ہوئے اٹھے دس بجے دفتر گئے وہاں سے چار بجے آئے تو چور ہو کر آئے۔پھر ہوا خوری پھر دوست آگئے باتیں ہونے لگیں رات کے بارہ بج گئے یاگپیں لگاتے ہوئے دو بج گئے۔قرآن کس وقت پڑھا جائے؟ کوئی موقع نہیں۔قرآنی عربی زبان ایسی آسان زبان ہے کہ ابتداء سے انتہا تک میں نے بعض اشخاص کو چارماہ میں پڑھا دی، اب خوب پڑھ لیتے ہیں۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ انگریزی کم سے کم کتنے دنو ںمیں پڑھ سکتے ہو۔کہا دس برس میں۔میں نے کہا عربی سہل ہوئی یا تمہاری انگریزی زبان۔اورقرآن کریم اس سے تین مرتبہ سہل ہے کیونکہ ایک حصہ زیر زبر کے لئے ہے وہ لگے ہوئے ہیں پھر وہ الفاظ جن کے معنے سیکھنے ہیں دو ہزار کے قریب قریب ہیں۔میری اصل زبان ضلع شاہ پور کی ہے مگر وہ اب مجھ سے بولی نہیں جاتی۔کئی ہزار الفاظ مجھ کو اردو زبان کے یاد ہو گئے ہوں گے۔قرآن کریم میں