خطابات نور — Page 546
کو بھول گئے تو ہم نے ان کے درمیان بغض ڈال دیا۔اپنے گھروں کو دیکھو اپنی برادری کو دیکھو اور دکھ سے کہتا ہوں کہ بعض بعض احمدیوں کو بھی دیکھو کہ ان میں بغض اور کینہ موجود ہے ابھی تم کچھ ہوئے بھی نہیں پھر بھی تم میں وہی فساد ہے جو پہلے تھا جب اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو بغض اور عداوت پیدا ہو جاتا ہے۔اگر تمہارے اندر بغض اور عداوت ہے تو تم نے اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں کو چھوڑ دیا۔ایک جگہ آتا ہے کہ کفار کو فجار کے عذاب دینے کے لئے ہم نے پیدا کیا۔تمہارے مکان کی ذرا سی زمین تمہارے ہاتھ سے جاتی رہتی ہے تو تمہاری جان نکل جاتی ہے لیکن ملکوں پر ملک تمہارے قبضہ سے نکلتے چلے جاتے ہیں، سمر قند، بخارا، دہلی، لکھنو، مصر، مسقط، زنجبار، مراکش، تیونس، طرابلس، ایران وغیرہ بارہ سلطنتیں مسلمانوں کی میرے دیکھتے دیکھتے تباہ ہوئیں اور اب قسطنطنیہ پر بھی دانت ہے۔یہ کیوں ہوا؟ قرآن میں اس کا سبب لکھا ہے (الانفال :۴۷) باہم جھگڑے چھوڑ دوتم سست ہو جائو گے تمہاری ہوا بگڑ جائے گی یہ سب کچھ تم نے دیکھ لیا ہے تم کہو گے ہم نے طرابلس میں چندہ دیا۔بیشک نیک کام کیا لیکن اصل چیز تو خشیۃ اللّٰہ تھی۔تمہارے دل میں خشیۃ اللّٰہ پیدا ہوئی۔تم نے قرآن کے جوے کے نیچے اپنی گردن کو رکھا؟ اس کا جواب نہیں۔میرے ڈیرے میں لوگ بعض اوقات گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں کہ میری بیوی بیمار ہے، میرا بچہ بیمار ہے، میرا بھائی بیمار ہے۔جب ان کو دیکھتا ہوں تو بے دین۔میں نے بہتوں سے پوچھا ہے کہ تم کو ان کی بے دینی کا بھی غم ہے؟ کہا اس کے بے دین ہونے کا فکر نہیں مگر اس کے درد کا فکر ہے۔جسمانی امراض، لباس، خوراک، مکانات کا تو فکر ہے لیکن روحانی امراض کا مطلق فکر نہیں۔کیا انبیاء علیہم السلام دنیا میں عبث آئے تھے؟ شکر کے مقام میں ہر جگہ شکر ادا کرو اور صبر سے بھی کام لیا کرو۔ہر جگہ خدا تعالیٰ پر ہی دعویٰ کرتے ہو کہ ہمارے ساتھ یہ نہیں کیا یہ نہیں کیا۔اس کے احسانات وانعامات کو سوچو۔اب مجھ کو خطرہ ہو رہا ہے کہ لوگ صبح سے لیکچر سن رہے ہیں بہت سے لوگوں کو پیشاب پاخانے کی بھی حاجت ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے مجھ کو توفیق دی تو پھر سنائوں گا۔اس وقت آیت کو پورا نہیں کر سکا اس کا قاعدہ آگے بتاتا ہے کہ تم مفلح کس طرح ہو سکتے ہو