خطابات نور — Page 51
اپنی کشش سے پاک فطرت اور سعیدوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر اس تعلق سے جو ان میں پیدا ہوتا ہے اس قوت اور طاقت کو نشوونما ہوتا ہے۔فیوض الٰہی کا نزول: جو فیوض الٰہی کے جذب کرنے کا ذریعہ ٹھہرتی ہے۔یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ وہ سلسلہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ان الفاظ میں فرمایا ہے۔(حٰم السّجدۃ :۳۱) کی کیفیت کیسے پیدا ہو: کی حالت اور کیفیت مجرد زبان سے کہہ دینے سے پیدا نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ایک کیفیت ہے کہ اس کا ظہور اور بروز نہیں ہوتا جب تک خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ کی صحبت میں رہنے کا موقع حاصل نہ ہو اور اس کے ساتھ ہی سچا پیوند اور رشتہ قائم نہ ہو۔یہ مسئلہ چونکہ ایک باریک مسئلہ ہے۔اس لئے میں نے پہلے عام نظارہ قدرت کی مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وحدت ارادی فیوض کا وارث بناتی ہے لیکن یہ بیان کرنا کہ وہ برکات اور فیوض جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور صادقوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے ملتے ہیں وہ کس طرح پر نازل ہوتے ہیں یہ ایک کیفیت ہے جس کو بیان کرنا مشکل ہے۔اسی لئے میں نے بتایا ہے کہ جس طرح مرغی اپنے انڈوں کو پروں کے نیچے لے کر بیٹھتی ہے اور اپنی گرمی پہنچاتی ہے اور اس گرمی سے اس مادہ میں جو انڈوں کے اندر نشوونما پانے کی قابلیت رکھتا ہے ایک خاص قسم کی حرارت جو زندگی کی روح رکھتی ہے پیدا ہونے لگتی ہے اور معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ روح کدھر سے آئی اور کس وقت۔اسی طرح پر جب انسان ایک مامور کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے تو اندر ہی اندر اس کی پاک تاثیریں عقد ہمت دعائیں اس تعلق پیدا کرنے والے انسان میں ایک نیا نفخ روح کرتی جاتی ہیں اور اس میں نئی زندگی کے آثار پیدا ہوتے ہیں۔اس کی صحبت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایک نیا ایمان پیدا ہونے لگتا ہے جو اس ایمان پر اسے اپنا جان و مال تک نثار کردینے کی قوت بخش دیتا ہے۔وہ ایمان اس کو استقامت کی قوت دیتاہے اور وہ اس آیت کا مصداق بنتا ہے اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کے برکات