خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 523 of 660

خطابات نور — Page 523

قدر تھی کہ سارا اسٹیشن ہی بھرا پڑا تھا۔پھر بمبئی کا ذکر کرتے ہیں پھر آگے چل کر پورٹ سعید کا ذکر کرتے ہیں مگر مکّہ شریف کا ذکر ان کی زبان پر کبھی آتا ہی نہیں۔گویا مکّہ شریف ان کے راستے ہی میں نہیں پڑتا۔کیا کبھی آپ نے ان کی زبانی اس پاک اور مقدس جگہ کا نام بھی سنا؟ نہیں پھر یہ کیوں؟ اس لئے کہ انہیں اسلام سے محبت نہیں ،درد نہیں، وہ نام کے مسلمان ہیں۔قرآن کریم کی محبت کے سرد ہونے کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے فرمایا کہ جب حضور فخر کائنات اور فخر رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو مضطرب پائیں گے تو فرمائیں گے۔(الفرقان :۳۱)۔آپ لوگوں کی یہ حالت بد انہیں کیوں دیکھنی نصیب ہو گی۔اس لئے کہ آپ نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا اس کی تعلیم سے آپ نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اپنے گھر کی حالت کو دیکھو ہر ایک چیز کا وزن کرو تمہاری عورتوں کو کپڑے کی ضرورت ہے۔اعلیٰ سے اعلیٰ زیور وہ پہنتی ہیں پھر ظاہری بنائو سنگار کے لئے انہیں منہ دیکھنے کے شیشے کی بھی ضرورت ہے مگر قرآن کریم سے ان کو مس نہیں۔اس کی اتباع کی انہیں فکر نہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اپنے خاوندوں کو اپنے بیٹوں کو اور اپنے بھائیوں کو دیکھتی ہیں کہ ان کو بھی عزیزو مجید کتاب سے محبت نہیں۔قرآن کریم جو ہمیں بڑا بنانے کے لئے، خوشحال بنانے کے لئے، بادشاہ بنانے کے لئے، باعزت اور با اثر بنانے کے لئے آیا تھا اس کی حقارت ہوتی ہے اگر آج قرآن کریم سنایا جاتا ہے تو صرف مُردوں کو سنایا جاتا ہے یا ان مریضوں کو جو قریب المرگ ہو گئے ہیں۔میں نے ایک ملاں کی زبانی سنا کہ جس طاعون سے ہمیں مرزا ڈراتا ہے وہ طاعون تو ہمارے لئے نعمت ہے۔مجھے تعجب ہوا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا کہ آپ حیران کیوں ہوتے ہیں کوئی بیمار اچھا ہو یا نہ ہو ہمیں تو اپنے مطلب سے مطلب ہے۔ہم تو اپنے ختم قرآن کی پوری رقم لے ہی لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کو پڑھتے بھی ہیں وہ اپنے آپ کو آپ کی نظر میں قابل اعتبار بنا کر نہیں دکھا سکتے اب اگر لوگوں کو قرآن کریم کے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی خواہش ہو تو کیونکر اور کس طرح پر؟ جو نمونہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے والوں کا پاتے ہیں وہ تو ایسا ہے ہی نہیں کہ جس پر چل کر انسان کسی قسم کی کامیابی کی امید کر سکے۔