خطابات نور — Page 500
اپنے عقائد: اپنے عقائد میں اس کے اسماء، افعال، صفات میں کسی کو شریک نہیں مانتا اور اس کی تعظیم میں خواہ وہ عادتاً یا عبادتاً شریک نہیں مانتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور خاتم کمالات انسانی مانتا ہوں اور قرآن مجید کو خاتم الکتب۔ایسا ہی جزاء وسزا کو حق اور جنت ونار کو حق۔ملائکہ اور کتب الٰہی پر ایمان رکھتا ہوں۔باوجود اس کے بھی جو ہمیں کہتا ہے کہ تم بڑے بے ایمان ہو تو ہم اسے اتنا ہی کہیں گے کہ تم ہمارے دل کے ذمہ وار نہیں۔ہم کو تمہارا خوف اور طمع کیا ہے؟ میں اپنی جان میں دل سے شہادت دیتا ہوں کہ اپنی آنکھ سے فرشتوں کو دیکھا ہے اس لئے میں انکار نہیں کر سکتا۔تم اس بات کو سن کر خواہ ہنس دو مگر میں تو اپنی آنکھ سے انہیں دیکھ چکا ہوں اور ان کی محبت واحسان کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور اپنے کانوں سے انہیں یہ کہتے سنا ہے۔(حٰمٓ السّجدۃ :۳۲) تم کہتے ہو مر کر پتا لگے گا میں کہتا ہوں کہ ہم نے تو اسی دنیا میں دیکھا ہے۔ان کی پاک محبت، پاک تحریکوں اور احسان کو دیکھا ہے میں ان کی قدر کرتا ہوں اور ایمان لاتا ہوں۔جو کہتے ہیں کہ ملائکہ صرف قوتیں ہوتی ہیں میں ان کی اس بات کو کیونکر تسلیم کر لوں جبکہ میں نے اپنی آنکھ سے انہیں دیکھا ہے قوتیں کہنے والے خود جانیں۔پھر میں اللہ کے انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک کو محبوب سمجھتا ہوں ان میں جامع کمالات انسانیہ، مکانیہ، زمانیہ اور جامع کمالات نبوت خاتم الرسل اور خاتم الانبیاء بلکہ خاتم کمالات انسانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ہمارے بادشاہ مرزا صاحب کو جو کچھ ملا ہے یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور کامل محبت سے ملا ہے اور یہی ختم نبوت کا راز ہے کہ آئندہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں گم اور فنا ہونے کے بغیر کوئی نبوت نہیں مل سکتی۔الٰہی فضل کی کوئی بھی راہ نہیں ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور راہ کے خلاف مل سکے۔حضرت مرزا صاحب اسی امر کا ایک نشان اور ثبوت تھے۔ا نہوں نے خود ظاہر کیا کہ جو کچھ انہیں ملا ہے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کامل محبت اور آپؐ پر درود شریف پڑھنے سے ملا ہے خدا تعالیٰ نے قبل اس کے کہ وہ دعویٰ کرتا اس کا نام ہی غلام احمد رکھا (علیہ الصلوٰۃ والسلام) آپؑ کو اس نام سے ایسی محبت تھی کہ آپؑ نے احمدؐ کے سوا کسی اور نام سے بیعت نہیں لی۔اس واسطے مرزا صاحبؑ کی نبوت نبوت محمدی سے الگ کوئی