خطابات نور — Page 497
انسان کی بلند پروازیاں: انسان کو ایسا عجیب مخلوقات پیدا کیا ہے کہ پرندوں جنگلی درندوں پر حکومت کرتا ہے۔کبوتر ہوا میں چلے جاتے ہیں میں نے ایسے کبوتر دیکھے ہیں جو چوبیس گھنٹے تک ہوا میں اڑتے رہتے ہیں۔مگر انسان کے حکم کے نیچے وہ اڑتے ہیں۔شیر کیسا خطرناک جانور ہے‘ چیتے کا حملہ نہایت چستی سے ہوتا ہے مگر انسان شیر سے شکار کراتا ہے پھر وہ مالک کے حکم کے انتظار میں رہتا ہے اگر کہہ دے چھوڑ دو تو چھوڑ کے چلا جاتا ہے اور اگر کہا جاوے کہ اس کو پکڑے رکھو تو کھڑا رہتا ہے۔باز کیسا ہوا میں اڑتا ہے انسان کے قابو سے نکل جاتا ہے باوجود اس آزادی کے شکار پکڑتے پکڑتے اگر اس کو کہہ دیا جاوے کہ واپس آجائو تو چھوڑ کر آجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی طاقت دی ہے کہ وہ کائنات پر حکومت کرتا ہے۔پھر جب سے انسانی نسل جاری ہوئی ہے حفظ صحت اور حفظ بقا کے لئے اس نے کیا کیا تجویزیں کی ہوں گی۔بادشاہوں نے اپنے رنگ میں، انبیاء واولیاء نے اپنی دعائوں کے رنگ میں اس کی بقا کا انتظام سوچا مگر قاہر علی العباد کی زبردست حکومت کا کتنا بڑا اثر ہے کہ موت کا ہاتھ سب پر چلتا ہے۔بعض لوگوں نے اپنی غلط فہمی سے مسیح کو موت سے مستثنیٰ کیا تھا مگر مرزا کی جماعت نے اس پر بھی حملہ کر دیا اور ایسا حملہ کیا کہ اب مسیح کی حیات کا ماننا ایک نادانی کا کام رہ گیا ہے۔غرض انسان بڑی طاقت اور قدرت کا نام ہے اس نے تمام دنیا پر حکومت کی ہے اور کائنات کی کسی چیز کو اس نے بے تراش خراش نہیں چھوڑا۔تمہارے اس شہر میں ایک شخص نے کسی سے کوہ نور ہیرا لیا تھا مگر جب اسے کام میں لانے لگے تو اس پر تراش خراش کا عمل جاری ہوا۔یہ جو مبارک حویلی ہے یہاں ہی اس کا سودا ہوا تھا بکنا کیا تھا اس کی قیمت پوچھی تھی تو جو اب میں جوتی کھوسڑا ہی بتایا گیا۔غرض تمام اشیاء پر انسان کی حکومت ہے اور جناب الٰہی کی اس پر بھی حکومت ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان پر بڑے بڑے انعامات کئے ہیں۔یہ کیا کم انعام ہے کہ اس کو ایسی قوت دی کہ تمام چیزوں پر حکمرانی کرتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ سورج کی کرنوں اور ایتھر سے حالانکہ اس کو دیکھا