خطابات نور — Page 484
کے موافق جو میں نے ابھی بتایا ہر وقت ہی دنیا کے ہر حصہ میں اسلام کے اصول پیش کرتا ہے اور وہ یہ کہ بلند مناروں پر چڑھ کر اذان دیتا ہے۔اس کے معنے اعلان کے ہیں۔پہلے بتاتا ہے کہ ہم ہیں کون؟ اللّٰہ اکبر کہہ کر بتاتا ہے کہ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔جو اللہ کو سب سے بڑا سمجھتی ہے۔تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزّہاسے یقین کرتی ہے۔اسی کا ہم دنیا میں اعلان کرتے ہیں اور بڑی بھاری شہادت چار مرتبہ ہوتی ہے۔اس لئے یہ بھی اللّٰہ اکبرچار مرتبہ کہتا ہے۔پھر اور تشریح کرتا ہے کیونکہ شاید کوئی اور بھی اللّٰہ اکبر کہتا ہو اس لئے بتاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو تمام حاجت روائیوں کا مرکز اور اپنے آپ کو کامل محتاج یقین کرتے ہیں اس لئے دل سے کہتے ہیں۔اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ اس کلمہ نے ایک مومن مسلمان کو تمام دنیا سے ناامید کردیا ہے۔کیونکہ الٰہ کے مفہوم میں داخل ہے کہ کوئی معبود نہیں کوئی محبوب اور مطاع نہیں۔مگر اللہ نبی کریمؐ کی خاص عظمت: پھر دنیا میں راستباز ضرور آئے ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لئے کوئی کسرنہیں رکھی۔اس مقصد کے لئے عزت، آبرو، جان و مال اور عزیز وطن کی کوئی پرواہ نہیں رکھی۔اس کو پہنچایا اور بہتوں کو منوایا۔مگر تھوڑا ہی عرصہ ان پر گزرا کہ ان کے متبعین نے ان کو معبود قرار دے دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آخر میں آئے۔آپؐ نے سوچا کہ میرے بہت سے بھائی جو لا الٰہ الا اللّٰہ کے خادم تھے۔بڑے خاکسار اور شریف الطبع اور نہایت ملنسار اور بااخلاق طبیعت کا انسان مسیح تھا۔مگر عقلمندوں نے ان کو بھی خدا بنا کر چھوڑا۔اس دانش و عقل پر کہ ایک انسان کو خدا بنالیا۔اب کہتے ہیں ہمارے ذریعہ روشنی پہنچتی ہے۔یہ اچھی روشنی ہے روشنی کا قاعدہ جہاں تک مجھ کو معلوم ہے۔اس کے اندر کار بن ہوتی ہے اور وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ملت ابراہیمی کے مقتدا اور مقتدی اولاد ابراہیم تھے مگر انہوں نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود بنالیا۔اس غلطی میں دنیا کو مبتلا دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے متعلق ہمیشہ کے لئے شرک کی بنیاد اکھیڑ دی اور ہر وقت اس کا عام اعلان کرایا۔اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ اس پاک کلمہ نے ایسی احتیاط